خطبات نور — Page 82
82 میرے دل میں بارہا یہ خیال آیا ہے کہ ایک تنکے پر بھی شے کا اطلاق ہوتا ہے اور وہی شے کا لفظ وسیع ہو کر خدا پر بھی بولا جاتا ہے۔یاد رکھو منافق دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک یہ کہ دل میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔وہ اعتقادی منافق ہو تا ہے۔اس کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ عیسائیوں کا مذہب ہے۔انجیل کی حالت کو دیکھو کہ اس کی اشاعت پر کس قدر سعی بلیغ کی جاتی ہے مگر یہ پوچھو کہ اس کتاب کے جملہ جملہ پر اعتقاد ہے؟ تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔اس طرح پر میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا خوف اٹھ گیا ہے۔وہ دعوئی اور معاہدہ کہ ”دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا" قابل غور ہو گیا ہے۔اب اپنے حرکات و سکنات، رفتار و گفتار پر نظر کرو کہ اس عہد کی رعایت کہاں تک کی جاتی ہے۔پس ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو۔ایسا نہ ہو کہ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِینَ کے نیچے آجاؤ۔منافق کی خدا نے ایک عجیب مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی مگروہ روشنی جو آگ سے حاصل کرنی چاہئے تھی وہ جاتی رہی اور ظلمت رہ گئی۔رات کو جنگل کے رہنے والے درندوں سے بچنے کے واسطے آگ جلایا کرتے ہیں لیکن جب وہ آگ بجھ گئی تو پھر کئی قسم کے خطرات کا اندیشہ ہے۔اسی طرح پر منافق اپنے نفاق میں ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا دل ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ حق کا گویا شنوا اور حق کا بینا نہیں رہتا۔ایک شخص اگر راہ میں جاتا ہو اور سامنے ہلاکت کا کوئی سامان ہو وہ دیکھ کر بچ سکتا یا کسی کے کہنے سے بچ سکتا یا خود کسی کو مدد کے لئے بلا کر بچ سکتا ہے۔مگر جس کی زبان ، آنکھ ، کان کچھ نہ ہو اس کا بچنا محال ہے۔یا جوج ماجوج بھی آگ سے بڑے بڑے کام لے رہے ہیں مگر انجام وہی نظر آتا ہے۔مومن کا کام ہے کہ جب دعویٰ کرے تو کر کے دکھاوے کہ عملی قوت کس قدر رکھتا ہے۔عمل کے بدوں دنیا کا فاتح ہونا محال ہے۔یاد رکھو کہ ہر ایک عظیم الشان بات آسمان سے ہی آتی ہے۔یہ امر خدا کی سنت اور خدا کے قانون میں داخل ہے کہ امساک باراں کے بعد مینہ برستا ہے۔سخت تاریکی کے بعد روشنی آتی ہے۔اسی طرح پر فیج اعوج اور سخت کمزوریوں کے بعد ایک روشنی ضروری ہے۔وہ شیطانی منصوبوں سے مل نہیں سکتی۔بہتوں کے لئے اس میں ظلمت اور دکھ ہو اور ایک نمک کا تاجر جو اس میں جا رہا ہے اسے پسند نہ کرے۔بہت سے لوگ روشنی سے فائدہ اٹھالیتے ہیں اور اکثر ہوتے ہیں جو اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں مگر احمقوں کو اتنی خبر نہیں ہوتی کہ خدائی طاقت اپنا کام کر چکی ہوتی ہے۔فرض یہ ہے کہ علم حاصل کرو اور پھر عمل کرو۔علم کے لئے معلم کی ضرورت ہے۔یہ دعوی کرنا کہ ہمارے پاس علم القرآن ہے