خطبات نور — Page 599
599 اس آگ سے جس کا ایندھن یہ شریر لوگ اور جس کے بھڑکنے کا موجب یہ معبودان باطل ہیں۔جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اعمال صالحہ کئے وہ باغوں میں ہوں گے۔جن کے نیچے ندیاں بہتی ہیں۔ایمان تو جنات کے رنگ میں متمثل ہو گا اور اعمال صالحہ اس کی نہریں ہیں۔جو پاک تعلیم کے نیچے آتا ہے وہ ترقی کرتا ہے اور پاک آرام میں آتا ہے۔ہر آن میں اسے یقین آتا ہے کہ کیا عظیم الشان اور کیا پاک اس کا کلام ہے۔جس نے فسانہ عجائب لکھی ہے جہاں میں طب پڑھتا تھا وہ بھی پڑھتا تھا۔میں نے اسے کہا فسانہ عجائب مجھے پڑھا دو۔اس نے کہا اچھا۔میں نے فسانہ عجائب آگے رکھ دیا اور اس نے سبق پڑھایا۔اس میں ایک فقرہ یہ بھی آگیا کہ ادھر تو مولوی ظہور اللہ اور ملا مبین اور اُدھر قبلہ وکعبہ فلانے مجتہد صاحب۔میں نے کہا کیا آپ سنی ہیں؟ اس نے کہا کیونکر؟ میں نے کہا اس ادھر ادھر سے معلوم ہو گیا۔حیران ہو کر کہنے لگا یہ نیا نکتہ تم نے بتایا۔اس نے مجھ سے حضرت شاہ عبد العزیز صاحب کی ملاقات کا ذکر کیا اور اس بات پر مجھے فخر ہے کہ شاہ صاحب کی باتیں مجھے ایک واسطے سے پہنچی ہیں۔فرمایا قرآن پڑھو۔حق ظاہر ہو گا۔عرض کیا، عربی نہیں جانتا۔فرمایا ہمارے بھائی رفیع الدین نے ترجمہ لفظی لکھ دیا۔اگر کچھ شبہ ہو تو کسی مذہب کے عالم سے صرف اس لفظ کا ترجمہ پوچھ لو۔پھر مذہب حقیقی کا پتہ لگ جائے گا۔میں تو دور تک پہنچا۔بس وہ سبق تو فسانہ عجائب کے دوسرے صفحہ تک رہ گیا اور ہمیں قرآن شریف کی بڑی محبت ہو گئی۔پھر میں نے دیکھا کہ قرآن شریف میں دو باتیں مخالف و متضاد ہرگز نہیں۔یعنی یہ نہیں کہ ایک جگہ کچھ کہتا ہو، دوسری جگہ کچھ ہو۔میرے دوستو! قرآن مجید جیسی کوئی کتاب نہیں بلکہ اور کوئی کتاب ہی نہیں۔اس کی اتباع کرو۔خدا تعالیٰ تمہیں اپنی محبت بخشے۔نیکیوں کی توفیق دے۔قرآن مجید پر عمل کرو اور خاتمہ بالخیر۔الفضل جلد نمبر ۱۰-۲۰۰۰/ اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ⭑-⭑-✰✰