خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 598 of 703

خطبات نور — Page 598

598 اپنے مالک کے حکم کے ماتحت چلتے ہیں۔حالانکہ اس مالک نے نہ جان دی ہے نہ وہ کھانے پینے کی چیزیں پیدا کی ہیں۔جب ایک معمولی احسان سے اس کی اس قدر اطاعت کی جاتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان اپنے موٹی کریم پر فدا نہ ہو، جس نے اسے حیات بخشی، رزق دیا، پھر قیام کا بندوبست کیا۔اس لئے فرمایا کہ منافقو! تم معمولی فائدہ کے اٹھانے کے لئے جہان کا لحاظ کرتے ہو مگر کیوں اس بچے مربی کے فرمانبردار نہیں ہوتے جو تمام انعاموں کا سرچشمہ ہے؟ کم عقلو! اس نے تمہیں پیدا کیا۔پھر تمہارے باپ دادا کو بھی پیدا کیا۔پھر فرمانبرداری کرنے میں اللہ کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ تم ہی دکھوں سے بچو گے اور سکھ پاؤ گے۔دیکھو اس نے تم پر کیسے کیسے احسان کئے ہیں۔تمہارے لئے زمین بنائی جو کیسی اچھی آرامگاہ ہے۔پھل پھول اور طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی ہے جسے تم کھاتے ہو۔پھر آسمان کو بنایا جیسے ایک خیمہ ہے۔وہ زمین کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔پھر بادل سے پانی اتارا۔اس سے رنگارنگ کے پھل اگائے۔یہ فضل ہوں اور پھر تم اس کا ند بناؤ بڑے افسوس کی بات ہے۔بنانا کیا ہے؟ سنو! یہ کہنا کہ دوست آگیا تھا، اس کی خاطر تواضع میں نماز رہ گئی۔بچوں کے کپڑوں، بیوی کے زیوروں کی فکر تھی، نماز میں شامل نہ ہو سکا۔رات کو ایک دوست سے باتیں کرتے کرتے دیر ہو گئی، اس لئے صبح کی نماز کا وقت نیند میں گزر گیا۔غور کرو اس دوست یا اس شخص نے جس کے لئے تم نے خدا کے حکم کو ٹالا ویسے احسان تمہارے ساتھ کئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے تم سے کئے؟ اسی طرح آج کل مجھے خط آ رہے ہیں کہ بارش ہو گئی ہے۔تخم ریزی کا وقت ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو روزے پھر سرما میں رکھ لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کے احکام کا استخفاف ہے۔اس سے توبہ کر لو۔یہ اپنے دنیاوی کاموں کو خدا کا ند بنانا ہے جو کفران نعمت ہے۔ند اس کا سب سے بڑا انعام تم پر یہ ہے کہ قرآن ایسی کتاب دی۔اگر تم کو یہ شک ہے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں ہے اور یہ بناوٹی ہے اور انسانی کلام ہے تو تم بھی کوئی ایسی کتاب لاؤ بلکہ اس کتاب کے ایک ٹکڑے جیسا ٹکڑا بنا کر دکھاؤ۔ہمیں بھی بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قرآن کو توڑ موڑ کر اپنے مطلب کا ترجمہ کر لیتا ہے۔میں کہتا ہوں جیسا تمہارا سنانے والا ہے ایسا کوئی سنانے والا لاؤ۔میں تمہیں کہتا ہوں جھوٹ نہ بولو۔کیا تم کوئی ایسا مترجم لا سکتے ہو جو کہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ جھوٹ بولا کرو۔میں کہتا ہوں پر معاملگی چھوڑ دو تو کیا کوئی ایسا متر تم آئے گا جو کے گا' بد معاملگی کیا کرو ؟ میں کہتا ہوں تم راستباز بنو۔لڑائی چھوڑ دو۔آپس کا فساد چھوڑ دو۔تو کیا کوئی ایسا مترجم آئے گا جو کہے گالڑائی کیا کرو؟ فساد مچایا کرو؟ غرض نہ تو قرآن جیسی کتاب بنا کر لاتے ہو اور نہ اس سے بہتر بنا سکتے ہو تو پھر ڈرو اور بچاؤ اپنے آپ کو