خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 552 of 703

خطبات نور — Page 552

552 جاتی ہے۔میں نے ایسی آندھیاں دیکھی ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ سو جھائی نہیں دیتا۔بہت سے جانور دریاؤں میں گر جاتے ہیں۔بہت سے پرند درختوں سے گر جاتے ہیں اور دریا وغیرہ کے درخت جو سرو کی قسم سے ہیں ، اس طرح گرتے اور اڑتے ہیں کہ نیچے بیٹھے ہوئے آدمی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔وَ النَّشِرَاتِ نَشْرًا۔ایسی بھی ہوائیں ہوتی ہیں کہ پانی کو اٹھاتی ہیں، بادل لاتی ہیں۔پھر ایسی ہوائیں بھی ہوتی ہیں کہ وَالْفُرِقْتِ فَرْقًا وہ فرق کر دیتی ہیں۔بادلوں کو اس طرح اڑا کر لے جاتی ہیں جیسے روٹی کا خدا تعالیٰ کا کلام بھی انسان کے کان میں ہوا ہی کے ذریعہ سے پہنچتا ہے۔ہوا کی لہریں بھی دماغ کے پردوں کو متحرک کر دیتی ہیں۔وہ ہوائیں المرسلت ہوتی ہیں اور وہی آوازمیں بھی کان میں پہنچاتی ہیں۔اور وہ آوازیں کبھی خوشی کی ہوتی ہیں، کبھی رنج کی ہوتی ہیں جو عاصفات کا رنگ پیدا کر دیتی ہیں۔مومن کی شان میں ایک ایسا لطیف فقرہ ہے۔دنیا میں کوئی دکھ کو پسند نہیں کرتا۔قرآن شریف میں ہے فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقر۱۳۹۵۔اگر تم مومن ہو اور سکھ چاہتے ہو تو اس کتاب کی اتباع کرو۔اب دور دراز سے خبریں آتی ہیں کہ مسلمانوں کو یوں شکست ہوئی ، یوں تباہ ہوئے۔ایک شخص کا میرے پاس خط آیا۔وہ لکھتا ہے کہ مجھ کو دہریہ نام کا مسلمان ملا۔وہ کہنے لگا خدا تعالیٰ تو اب مسلمانوں کا دشمن ہو گیا ہے۔لہذا ہم اسلام سے ڈرتے ہیں کہ کہیں خدا ہمارے پیچھے بھی نہ پڑ جائے۔اس لئے ہم تو اسلام کو چھوڑتے ہیں۔بھلا اس سے کوئی پوچھے کہ اس نے مسلمانوں جیسے کتنے کام کیے۔مسلمان اپنے اعمال کو ٹھیک کرتے اور پھر دیکھتے۔فَالْمُلْقِيْتِ ذِکرا۔ہواؤں میں وہ ہوائیں بھی ہیں کہ تم کو یاد دلانے کے لیے چلاتے ہیں۔یعنی لوگوں کے منہ سے تم کو سنواتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو۔ایک بڑا حصہ مسلمانوں کا ایسا ہے کہ اس کو اسلام کی خبر بھی نہیں اور اگر خبر ہے تو عامل نہیں۔میں تم کو بہت مرتبہ قرآن سناتا ہوں۔بعض کہتے ہیں کہ ہزاروں مرتبہ تو سن چکے ہیں کہاں تک سنیں۔عُذْرا اونُذرا۔ہم تو اس واسطے تم کو قرآن سناتے ہیں کہ کوئی عذر باقی نہ رہے اور تم میں سے کوئی تو ڈرے۔زمینداروں، دکانداروں کو فرصت کہاں! میں نے صرف ایک شہر ایسا دیکھا ہے کہ جمعہ کے دن