خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 553 of 703

خطبات نور — Page 553

553 بازاروں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور سب جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں۔کوئی مسلمان بازار میں نہیں پھر سکتا اور وہ شہر مدینہ ہے۔مکہ میں بھی ایسا نہیں۔یہ بھی چالیس پچاس برس کی بات ہے۔اب کی کیا خبر ہے؟ دکاندار حرفہ والے ملازم اپنے کاموں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔عورتیں اور بچے جاتے ہی نہیں۔آج کل لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں کہ جمعہ کوئی ضروری چیز نہیں۔عالمگیر نے ایک ایسی کتاب لکھوائی تھی۔اس میں عجیب عجیب ڈھکونسلے ادھر ادھر کے بھر دیئے ہیں۔اس کے سبب لوگوں میں سستی ہوئی اور اب تو صاف صاف جمعہ کی مخالفت میں کتابیں چھپنے لگیں۔کوئی لکھتا ہے کہ قربانی کی ضرورت نہیں۔ایک اخبار نے لکھا تھا کہ حج میں روپے خرچ کرنے کی بجائے کسی انجمن میں چندہ دے دے۔ایک شخص نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور روزوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر امیر ہو تو کھانا دے دے۔غریب کو تو ویسے بھی معاف ہی ہے۔ایک شخص لکھتا ہے کہ وَذَرُوا البيع الجمعة) ہر قسم کا بیچ چھوڑ دو۔پس ہر قسم کی بیچ ہونی چاہئے۔جہاں ہر قسم کی بیچ نہ ہو وہاں جمعہ ضروری نہیں۔میں نے کہا کہ ہر قسم کی بیع تو لنڈن میں بھی نہیں ہوتی۔إِذَا النُّجُومُ علماء یوں تباہ ہو رہے ہیں۔قرآن کے حقائق یوں کھل جائیں گے اور بڑی بڑی سلطنتیں بھی قائم ہو جائیں گی۔ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن سمجھ لیا ہے۔دیکھو خوشی کی خبریں غم سے یوں مبدل ہو جاتی ہیں جیسے " مرسلات "" عاصفات " سے۔نفس کو اس کا مطالعہ کراؤ۔شیخ ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک صوفی تھے۔وہ حافظ تھے اور قرآن شریف کو دیکھ کر بڑے غور سے پڑھتے۔ہر حرف پر انگلی رکھتے جاتے اور اتنی اونچی آواز سے پڑھتے کہ دوسرا آدمی سن سکے۔ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ کو تو قرآن شریف خوب آتا ہے۔پھر آپ کیوں اس اہتمام سے پڑھتے ہیں؟ فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میری زبان کان، آنکھ ہاتھ سب خدا کی کتاب کی خدمت کریں۔ایک حضرت شاہ فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی گزرے ہیں۔ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ بہشت میں جائیں گے تو کیا کام کریں گے؟ فرمایا ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے پاس حوریں آئیں۔ہم نے ان سے کہا جاؤ بیبیو! قرآن پڑھو۔قرآن خدا کی کلام اور اس کی کتاب ہے۔جس قدر کوئی اللہ تعالٰی سے تعلق رکھے گا اسی قدر جناب الہی اس کو پکارے گا تو اس کی بات فور اسنی جائے گی۔(بدر حصہ دوم۔کلام امیر۹ جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۰۱ تا ۱۰۳)