خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 551 of 703

خطبات نور — Page 551

۱۳ دسمبر ۱۹۱۲ء 551 خطبہ جمعہ تشهد تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَ الْمُرْسَلَتِ عُرْفًا فَالْعُصِفْتِ عَصْفًا - وَ النَّشِرْتِ نَشْرًا۔فَالْفَرِقْتِ فَرْقًا۔فَالْمُلْقِيْتِ ذِكْرًا - عُدْرًا اَوْ نُذُرًا - إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ - فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ - وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ۔وَ إِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ وَ إِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ لِأَيِّ يَوْمٍ أُحِلَتْ لِيَوْمِ الْفَصْلِ - وَ مَا أَدْرِيكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ - وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ (المرسلات: ۲ تا۱۲)- اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ شریف میں ایک عجیب نظارہ دکھلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ سوچو! بہار کی لطیف ہوا کیسی فرحت بخش ہوتی ہے۔ایک نوجوان اس وقت سڑک پر چلتا ہو تو اس کی زبان سے بھی ایک فقرہ ضرور نکل جاتا ہے۔وَالْمُرْسَلَتِ عُرْفًا۔وہ ہوائیں جو دل کو خوش کرنے والی ہوتی ہیں تم جانتے ہو کہ بعض وقت ہوا کا ایک لطیف جھونکا چلتا ہے کہ اس لطیف جھونکے سے دل خوش ہو جاتا ہے۔پھر وہی ہوا آہستہ آہستہ چلتی اور روح و رواں کو خوش کرنے والی یکدم ایسی بڑھ جاتی ہے کہ ایک تیز آندھی بن