خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 505 of 703

خطبات نور — Page 505

۲۵ ستمبر ۱۹۱۱ء 505 (خطبہ عید الفطر کے بعد وعظ ) رمایا :- میاں صاحب (صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد) نے آج عید کا خطبہ پڑھا ہے اور گزشتہ جمعہ کے دن بھی انہوں نے لطیف سے لطیف وعظ تمہیں سنایا تھا اور اگر تم لوگ غور کرتے تو وہ بہت ہی الطف بات ہوتی۔میں نے اس خطبہ کی بہت قدر کی ہے اور اب بھی کرتا ہوں۔وہ اپنے اندر نکات معرفت رکھتا تھا۔میں امید کرتا ہوں کہ بہت سے شریف الطبع لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہو گا۔مگر بعض بلید الطبع گندے نابکار اور پلید طبع لوگ ہوتے ہیں۔میں ہنوز اس خطبہ کی لذت میں تھا اور اس سے مجھے فرصت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ میرے سامنے ایک خبیث طبع شخص نے ایک لمبا شکایتی رفعہ کسی کی غیبت میں پیش کر دیا۔آہ! ان معرفت کے نکتوں نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔خدا کے کلام کی عجیب در عجیب باتوں سے بھی ایسے لوگ کچھ حاصل نہیں کرتے تو ہم انہیں کیا کہیں۔یہ گندے بیمار ہیں۔لطیف غذا بھی ان کے منہ میں جاکر گندی ہو جاتی ہے۔