خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 506 of 703

خطبات نور — Page 506

506 عورت میں نے تم سے معاہدہ لیا ہے کہ شرک نہ کروب شرک کی باریک در باریک راہیں ہیں۔بعض لوگ دعا کے واسطے مجھے اس طرح سے کہتے ہیں کہ گویا میں خدا کا ایجنٹ ہوں اور بہر حال ان کا کام کرا دوں گا۔خوب یاد رکھو۔میں ایجنٹ نہیں ہوں۔میں اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں۔میری ماں اعوان قوم کی ایک رت تھی۔خدا کے فضل نے اسے علم عطا کیا تھا۔میرا باپ ایک غریب محنتی آدمی تھا جو مختصری تجارت سے اپنا گزارا کر لیتا تھا۔میں ایجنٹ نہیں ہوں۔ہاں اللہ تعالیٰ کے آگے عاجزی کرنا میرا کام ہے۔خدا نے عجیب در عجیب رنگوں میں دعا کرنا مجھے سکھایا ہے۔دعاؤں میں تڑپنا اور قسم قسم کے الفاظ میں دعا کرنا مجھے بتایا گیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یہ تعلیم دی ہے۔میں ان دعاؤں میں کبھی کبھی قبولیت کے اثر بھی دیکھتا ہوں۔مگر جماعت کے بعض لوگ دعا کرانے کی درخواست میں بھی شرک کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔کوئی تمہارا کارساز نہیں۔میں علم غیب نہیں جانتا۔نہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میرے اندر فرشتہ بولتا ہے۔اللہ ہی تمہارا معبود ہے۔اسی کے تم ہم سب محتاج ہیں کیا مخفی اور کیا ظاہر رنگ میں۔اس کی طاقت بہت وسیع ہے اور اس کا تصرف بہت بڑا ہے۔وہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔اس کا ایک نظارہ اس امر میں دیکھو کہ تم بھی مرزا کے مرید ہو اور میں بھی مرزا کا مرید ہوں۔مگر اس نے تمہیں پکڑ کر میرے آگے جھکا دیا۔اس میں نہ میری خواہش تھی اور نہ مجھ پر کسی انسان کا احسان ہے۔میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی اور نہ یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے۔دیکھو میں بیمار ہوا۔ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کے بچنے کی امید نہیں۔مگر میں زندہ بولتا موجود ہوں۔خدا ہی کا علم کامل ہے، اس کا تصرف کامل ہے۔اسی کے آگے سجدہ کرو اسی سے دعا مانگو۔روزہ نماز دعا‘ وظیفہ طواف، سجدہ قربانی اللہ کے سوا دوسرے کے لئے جائز نہیں۔بے ایمان شریروں نے لوگوں کے اندر شرک کی باتیں گھسادی ہیں۔کہتے ہیں قبروں پر جاؤ اور قبروالے سے کہو کہ تو ہمارے لئے خدا کے آگے عرض کر۔اسلام نے ہم کو اس طرح کی دعا نہیں سکھائی۔سو تم شرک کو چھوڑ دو اور چوری نہ کرو۔جو شخص نوکر ہے اور اپنے فرائض منصبی کو ادا نہیں کرتا وہ چور ہے۔جو شخص تجارت کرتا ہے اور اپنے لین دین کا حساب صاف نہیں رکھتا اور اس کا معاملہ صاف نہیں، وہ چور ہے۔اس کے مال میں چوری کا حصہ شامل ہو جاتا ہے۔تم شراکتیں کرتے ہو۔بعد میں تمہارے درمیان جوت چلتے ہیں۔اس کا سبب کیا ہے؟ یہی کہ حلال کھانے کی طرف توجہ کم ہے۔کسب والا جو اپنے کسب میں شرارت کرتا ہے، جعل ساز ، ٹھگ یہ سب چور ہیں۔کیونکہ وہ اکل بالباطل کرتے ہیں۔