خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 703

خطبات نور — Page 451

451 اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں کرتی رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (النور:۳۸) اصحاب صفہ انہی لوگوں میں سے تھے۔یہ لوگ دن بھر محنت و مشقت کرتے، اس سے اپنا گزارہ کرتے اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاتے اور پھر رات بھر وہ تھے اور قرآن شریف کا مشغلہ۔یہ قوم کس طرح تیار ہوئی؟ صحابہ میں تین گروہ تھے۔بعض ایسے کہ حضور نبوی میں آئے کچھ کلمات سنے، کچھ مسائل پوچھے پھر چلے گئے اور بس۔نماز پڑھ لی ، زکوۃ دی روزہ رکھا، بشرط استطاعت حج کیا اور معروف امور کے کرنے اور نواہی سے رکنے میں حسب مقدور کوشاں رہے۔اور بعض ایسے جو اکثر صحبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں بیٹھے رہتے۔اس مخلوق کے اندر ایمان رچا ہوا تھا۔سخت سے سخت تکلیف، مصیبت اور دکھ اور اعلیٰ درجہ کی راحت، آرام اور سکھ میں ان کا قدم یکساں خدا کی طرف بڑھتا تھا۔گیا: انہی لوگوں میں سے ایسے خواص تیار ہو گئے کہ خدا ان کا متولی ہو گیا۔مجھے اس موقع پر ایک شعر یاد آ قَوْمٌ هُمُوْمُهُمْ بِاللَّهِ قَدْ عَلِقَتْ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سارا خیال ان کو اللہ کا رہ جاتا ہے اور اس کے بغیر کسی کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔نبی کی اتباع وہ کرتے ہیں مگر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اسی لئے کہ اللہ نے حکم دیا۔بیوی بچوں سے نیک سلوک بھی اسی لئے کرتے ہیں۔وہ دنیا کے کاروبار کرتے ہیں ، چھوڑ نہیں بیٹھتے مگر یہ سب باتیں ، یہ سب کام ان کے اللہ ہوتے ہیں۔چنانچہ فرمایا۔فَمَطْلَبُ الْقَوْمِ مَوْلَاهُمْ وَ سَيِّدُهُمْ بِأَحْسَنِ مَطْلَبِهِمْ لِلْوَاحِدِ الصَّمَدِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تصوف کی طرف توجہ دلاتے تھے ؟ سو اس بارے میں میں بتا چکا ہوں کہ پہلے اسلام سکھاتے تھے، پھر ایمان بڑھتا جاتا تھا اور اخیر میں احسان کا درجہ تھا۔چنانچہ فرماتا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ