خطبات نور — Page 450
450 ایمان لاتا ہے اور ان کی تعمیل کرتا ہے۔وہ نبی کو تو پہلے بھی دیکھتا تھا مگروہ دیکھنادر اصل نہ دیکھنا تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف (1)۔اس کے بعد اس کی معرفت بڑھتی ہے اور وہ نبی کو اس کی نبوت کی حیثیت سے پہچانتا ہے تو اس کی کتاب کو پڑھتا ہے۔پھر جزا و سزا کے مسئلہ پر ایمان لاتا ہے اور اس طرح اس کا ایمان آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔چنانچہ جبرائیل کے سوال ما الْإِيْمَانُ کے جواب میں نبی کریم نے فرمایا۔اَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِه (بخاری کتاب الایمان)۔غرض جب مومن کفرو شرک کی ظلمات سے قوم کے رسوم ، قوم کے تعلقات، بزرگوں کی یادداشتوں کی ظلمات سے صحبت نبوی کی برکات کے ذریعے نکلتا ہے اور اس کے دل سے حُبِّ لِغَيْرِ اللهِ اٹھتی جاتی ہے تو پھر وہ اللہ جل شانہ کے سارے احکام کو شرح صدر سے مانتا ہے۔اس کے لئے تمام ماسوی اللہ کے تعلقات کو توڑ دیتا ہے اور محض اللہ ہی کا ہو جاتا ہے تو یہ تیسرا درجہ ہے جسے احسان کہتے ہیں۔اور یہ مومن کی اس حالت کا نام ہے جب اسے ہر حال میں اپنا مولی گویا نظر آنے لگتا ہے اور وہ مولیٰ کی نظر عنایت کے نیچے آ جاتا ہے اور وہ غالبا اس کی رضامندی کے خلاف کوئی حرکت و سکون نہیں کرتا۔چنانچہ جبرائیل کے سوال اَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں اَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ (بخاری کتاب الایمان) تو اللہ کی فرمانبرداری ایسی کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو یہ سمجھے کہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔مثال کے طور پر یہ دیکھ لو۔جب انسان کسی امیر یا بادشاہ کو اپنا محسن و مربی سمجھے تو پھر اس کے سامنے اور سب کچھ بھول جاتا ہے اور اس کے مقابل میں کسی چیز کی پروا نہیں کرنا یا مثلا بعض لوگ مکان بناتے ہیں تو اس کی تعمیر کی فکر میں ایسے مبہوت ہو جاتے ہیں کہ گویا مکان میں فنا ہو گئے ہیں۔مومن کو چاہئے کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاوے یہاں تک کہ اس کے بغیر اسے کوئی خیال نہ رہے۔اس درجہ احسان کو دوسرے لفظوں میں تصوف کہتے ہیں اور ان کا نام صوفی ہے۔لِصَفَاءِ أَسْرَارِهِمْ وَنَقَاءِ أَحْفَارِهِمْ ان کے دلی خیالات صاف ہوتے ہیں۔ان کے اعمال میں کوئی کدورت نہیں ہوتی۔ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ صاف ہوتا ہے۔وہ خدا کے حضور احکام کی تعمیل کے لئے اول صف میں کھڑے ہونے والے ہوتے ہیں۔وہ اس دار الغرور میں دل نہیں لگاتے۔چنانچہ تصوف کی تعریف میں فرمایا - اَلتَّحَافِى مِنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ صوفی موت کی تیاری کرتا ہے قبل اس کے کہ موت نازل ہو۔ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ رہتا ہے یہاں تک کہ تجارت و بیع