خطبات نور — Page 369
369 مقدم نہ کرلیں ورنہ لايُنصَرُونَ کی سزا موجود ہے۔میرا حال اب دیکھتے ہو۔صحت ٹھیک نہیں، عمر کے انتہائی درجے کو پہنچ چکا ہوں۔پس میں جو کچھ کہتا ہوں خلوص دل سے کہتا ہوں اور یہ کسی قیاس سے نہیں بلکہ اس کلام الہی کی بنا پر جس کی تہ تک پہنچ کر میں نے یقین کر لیا کہ دنیا کی زندگی اختیار کرنا اپنے پر عذاب وارد کرنا ہے۔یہ مضمون بہت لمبا ہے اور بعض ضروری امور خطبہ کو مختصر کرنے کے متقاضی ہیں۔آگے فرمایا وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ ہم نے تو ان لوگوں کی بہتری کے لئے موسیٰ کو کتاب دی پھر اور رسول بھیجے۔اخیر میں عیسی بن مریم کو کھلے نشانات کے ساتھ مبعوث کیا اور اسے اپنے کلام پاک سے مؤید کیا۔پھر بھی اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی رسول آیا اور اس نے ان کی خواہشوں کے خلاف کہا تو یہ اکر بیٹھے۔پھر بعض کی تکذیب کی اور بعض کے قتل کے منصوبے کرنے لگے۔مگر اس کا انجام ان کے حق میں اچھا نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو فہم عطا کرے۔عاقبت اندیشی دے۔یہ دنیا چند روزہ ہے۔سب یا رو آشنا الگ ہونے والے ہیں۔ہاں کچھ دوست ایسے ہیں جو دنیا و آخرت میں ساتھ ہیں۔ان کی نسبت فرمایا الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (الزخرف:۶۸)۔پس تمہارے دوست ہوں مگر وہ جن کو اللہ نے متقی فرمایا۔اگر وہ تم سے پہلے مر گئے تو تمہارے شفیع ہوں گے اور اگر ہم ان سے پہلے وفات پاگئے تو ان کی دعائیں تمہارے کام آئیں گی۔( بدر جلد ۸ نمبر۷ ۹۸۰---- ۲۴-۳۱ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑ 24۔