خطبات نور — Page 368
368 گے جو ان برائیوں کی وجہ سے ان پر نازل ہوئے اور ان خوبیوں کو اختیار کریں جن کی برکت سے ان پر طرح طرح کے انعام ہوئے۔ان آیات میں یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ بہت سے لوگ ورلی زندگی کو پسند کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حالت اچھی رہے۔پس وہ اس آواز کی طرف رغبت کرتے ہیں جو چند منٹ کے لئے لطف دے اور وہ نظارہ ان کے مرغوب خاطر ہوتا ہے جو عارضی ہو۔لیکن اس بچے سرور کی پروا نہیں کرتے جو دائی ہے اور جس پر کبھی فنا نہیں ہوتی۔ایسے لوگوں کے لئے بھی دنیا کو دین پر مقدم کرنا ایک عذاب ہو جاتا ہے اور وہ ہر لحظہ ہر گھڑی ان کو ، دکھ دیتا رہتا ہے اور کسی وقت بھی کم نہیں ہوتا۔چونکہ عاقبت انہوں نے پسند نہیں کی وہ خدا سے بعد میں ہوتے ہیں جو عذاب ہے۔وہ اس سے معذب ہوتے ہیں۔لیکن اس قسم کے عذابوں کے وعدے ہر مذہب میں نہیں۔یہ اسلام کی خصوصیت ہے کہ جس عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے اس کا نمونہ دنیا میں بھی دکھا دیا جاتا ہے تاکہ یہ عذاب اس آنے والے عذاب کے لئے ایک ثبوت ہو۔دیکھو! وہ قوم جس میں آج اچھے لڑکے نہیں ان پر کبھی وہ وقت بھی آجاتا ہے کہ ان میں اچھے لڑکے پیدا ہوں۔وہ قوم جن میں زور آور نہیں ایک وقت ان پر آتا ہے کہ ان میں زور آور پیدا ہوں۔اگر ان کے پاس آج سلطنت نہیں تو اس زمانہ کی امید کی جاسکتی ہے جب ان میں بھی امارت آجائے۔ہندوؤں کی حالت گزشتہ و موجودہ پر غور کرو۔جب ہم بچے تھے تو یہ ہندو اتنے تعلیم یافتہ نہ تھے کہ معلم بن سکیں اسی لئے اکثر مسلمان معلمین نظر آتے تھے۔پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے یہ تعلیم میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ اب معلم ہیں تو ان میں سے افسر ہیں تو ان میں سے۔وہ اپنی طاقت پر اب یہاں تک بھروسہ رکھتے ہیں کہ ہم کو اس ملک سے نکال دینے یا گورنمنٹ پر دباؤ ڈال دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔اس بات کا ذکر میں نے صرف اس لئے کیا ہے کہ قوموں میں جہالت کے بعد علم آجاتا ہے۔زوال کے بعد ترقی ہو سکتی ہے اور ایسا ہوتا رہتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک قوم ہے (یہود) جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا۔ہم نے ان کو یہ سزا دی کہ اور قوموں میں تو تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں مگر ان میں کوئی تبدیلی نہ ہو گی اور ان کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو گا۔چنانچہ یہودیوں کی کوئی مقتدرانہ سلطنت روئے زمین پر نہیں۔چپہ بھر زمین پر بھی ان کا تسلط نہیں۔اگر ان کو تکلیف دی جاوے تو کوئی نہیں جو ان کی حامی بھرے۔تیرہ سو برس سے خدا کا یہ کلام سچا ثابت ہو رہا ہے۔پس ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہئے کہ خدا کے خلاف جنگ نہ کریں اور ہرگز ہرگز والی زندگی کو