خطبات نور — Page 355
355 کئے جاؤ گے اور خدا کی طرف پھیرے جاؤ گے۔پھر احسان الہی کو یاد کرو کہ اس نے زمین کی تمام اشیاء تمہارے فائدہ کے واسطے بنائیں۔پھر تم زمین سے لے کر آسمان تک بلکہ عرش تک نگاہ ڈالو۔ہرامر میں خدا تعالیٰ کے تمام کاموں کو حق و حکمت سے پر پاؤ گے۔کوئی بات ایسی نہیں ہے جس میں کوئی کمزوری یا خرابی نگاہ میں آسکے۔اور خدا سب باتوں کا علیم ہے۔وہ تمہارے افعال کو دیکھ رہا ہے اور ان سے باخبر ہے۔اس خطبہ میں حضرت موصوف نے بالخصوص طلباء مدرسہ کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ خدا نے ان کو نیکی کے حاصل کرنے میں اور تقویٰ کی راہوں پر اپنے آپ کو مستقل کرنے کے لئے عمدہ موقع عطا کیا ہے۔آگے چل کر کالجوں میں ان کے واسطے بہت مشکلات ہوں گے کیونکہ وہاں ایسی نیک صحبت اور دیندار استادوں کا ملنا مشکل ہو گا۔جس نے ایسے وقت میں اصلاح نہ کرلی وہ آگے کیا کرے گا۔فرمایا۔استادوں کو بھی چاہئے کہ ان بچوں کے واسطے درد مند دل کے ساتھ دعائیں مانگیں کہ خدا تعالی ان کی اصلاح کرے۔اگر ایک آدمی بھی تمہارے ذریعہ سے ہدایت پا جائے تو تمہارے واسطے ایک بڑی نعمت ہے۔( بدر جلدے نمبر ۳۵ ----۱۷ ستمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑