خطبات نور — Page 354
۴ ستمبر ۱۹۰۸ء 354 خطبہ جمعہ (خلاصه) حضرت خلیفۃ المہدی والمسیح نے خطبہ کے شروع میں مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللهِ وَ كُنتُمْ اَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ - هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (البقرة: ۳۰٬۲۹) اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں اپنے احسانات یاد دلاتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ اپنے احسان کرنے والے کا شکر گزار ہوتا ہے اور اس کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کو خوش رکھنا اپنا فرض جانتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ تم خدا کے ناشکرے کس طرح بنتے ہو۔اپنا حال تو دیکھو۔تم مردہ تھے۔بے جان ذرات تھے۔تمہارا نام و نشان نہ تھا۔خدا نے تمہیں زندہ جاندار بنایا۔پھر تم مرجاؤ گے۔پھر زندہ