خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 703

خطبات نور — Page 342

342 سے خادماؤں یا چوہڑیوں کے ذریعہ سے لوگوں کے گھروں میں دفن کرا دیتے ہیں۔آخر کار ان کے اثر سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے چھوڑے ہوئے لوگ مرد اور عورتیں ان بیماروں کو کہتی ہیں کہ کسی نے تم پر جادو کیا ہے، کسی نے تم پر سحر کیا ہے۔لہذا اس کا علاج فلاں شخص کے پاس ہے۔آخر مرتا کیا نہ کرتا۔لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اور یہ لوگ اپنی مستورات کے ذریعہ سے چونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ وہ زہر کہاں مدفون ہے اور ان کے پاس ایک باقاعدہ فہرست ہوتی ہے، وہ زہر مدفون نکال کر ان کو بتاتے ہیں اور اس طرح سے ان بیماروں کا اعتقاد اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔پھر ان لوگوں کو چونکہ ان زہروں کے تریاق بھی یاد ہوتے ہیں ان کے استعمال سے بعض اوقات تعویذ کے رنگ میں لکھ کر پلوانے سے یا کسی اور ترکیب سے ان کا استعمال کراتے ہیں اور ان سے ہزاروں روپیہ عاصل کرتے ہیں۔اس طرح سے بعض کو کامیاب اور بعض کو ہلاک کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جو لوگوں کو اپنے فائدے کی غرض سے قسما قسم کی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ شریر لوگ ہیں جو مومنوں کے کاروبار میں اپنی بد تدابیر سے روک اور حرج پیدا کرتے ہیں اور اس طرح سے پھر مومنوں کی کامیابی میں مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔مگر آخر کار وہ ناکام رہ جاتے ہیں اور مومنین کا گروہ مظفر و منصور اور بامراد ہو جاتا ہے۔وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ کسی کی عزت بھلائی بڑائی بہتری اکرام اور جاہ و جلال کو دیکھ کر جلنے والے لوگ بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بھی انسانی ارادوں میں بوجہ اپنے حسد کے روک پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔غرض یہ سورۃ مشتمل ہے ایک جامع دعا پر۔رسول اکرم نے اس سورۃ کے نزول کے بعد بہت سی تعوذ کی دعائیں ترک کر دی تھیں اور اسی کا ورد کیا کرتے تھے۔حتی کہ بیماری کی حالت میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اس سورۃ کو آپ کے دست مبارک پر پڑھ پڑھ کر آپ کے منہ اور بدن پر ملتی تھیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور سے اب ان عجیب پر تاثیر اور اد کو قریباً ترک ہی کر دیا ہے۔انسان جب ایک گناہ کرتا ہے تو اسے دوسرے کے واسطے بھی تیار رہنا چاہئے۔کیونکہ ایک گناہ دوسرے کو بلاتا ہے۔اور اسی طرح ایک نیکی دوسری نیکی کو بلاتی ہے۔دیکھو بد نظری ایک گناہ ہے۔جب انسان اس کا ارتکاب کرتا ہے تو دوسرے گناہ کا بھی اسے ارتکاب کرنا پڑتا ہے اور زبان کو بھی اس طرح شامل کرتا ہے کہ کسی سے دریافت کرتا ہے کہ یہ عورت کون ہے کس جگہ رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اب زبان بھی ملوث ہوئی اور ایک دوسرا شخص بھی اور جواب سننے کی وجہ سے کان بھی شریک گناہ ہو