خطبات نور — Page 337
337 بجائے نفع کے نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔جتنی جتنی کوئی چیز نازک اور عظیم الشان ہوتی ہے اتنا ہی اسے نقصان کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔دیکھو اسلام بڑا نازک اور عظیم الشان مذہب ہے اس لئے اسے نقصان کا اندیشہ بھی زیادہ ہے۔خود قوم کی حالت اور نمونے کا اس پر اثر ہوتا ہے۔افراد کی حالت سے قیاس کرلیا جاتا ہے۔مسلمان کیسے ذلیل، مفلس اور محتاج ہیں۔پھر بائیں کیسے کیسے منصوبے کرتے ہیں۔ان میں حد درجے کی کمزوریاں اور ستیاں اور کاہلی موجود ہے۔فاسق فاجر اور بدمعاش اچھکے ان میں بھرے پڑے ہیں۔جیل ان سے بھرے ہوئے ہیں۔پھر بھی جھوٹا فخر، تکبر، بڑائی اور شیخی ایسی کی جاتی ہے کہ گویا تمھیں مارخان یہی ہیں۔ذرا سی بات میں وحشی بن جاتے ہیں اور جھوٹے فخر کرتے ہیں کہ تمام دنیا نے جو کچھ سیکھا ہے اسلام سے سیکھا ہے۔اچھا اگر دنیا نے اسلام سے سیکھ لیا تو تم نے کیوں نہ سیکھا؟ غرض ان بد اخلاقیوں اور افراد کے رزائل اور ردی حالت سے خود اسلام پر اعتراض اور دھبہ آتا ہے اور دشمنوں کے حملے ہوتے ہیں اور اور قوموں کو ایسے برے نمونے سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اسی واسطے مسلمان کو حکم ہے کہ آپ کے واسطے تسلیم مانگے کہ آپ کا دین آپ کے ارادے اور آپ کی تمام آرزوئیں ہر طرح سے محفوظ و ممنون رہیں اور کبھی کسی میں کوئی نقص یا کمزوری اور دھبہ نہ آوے۔آمین۔ا حکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ ۰۰۰ ۲۲ر اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۵ تا ۷) ⭑-⭑-⭑-⭑