خطبات نور — Page 336
336 اسی کی طرف جھکو۔میں اللہ کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب انسان خدا کو اپنا محتاج الیہ یقین کر لیتا ہے اور اس کا کامل ایمان ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی انسان کو کسی انسان کا محتاج نہیں کرتا۔میں اپنا ہر روزہ تجربہ بیان کرتا ہوں کہ اللہ محمد ہے۔اس پر ناز کرو۔خدا کو چھوڑ کر اگر مخلوق پر بھروسہ کرو گے تو بجز ہلاکت کچھ حاصل نہ ہو گا۔میں نصیحت کے طور پر تم کو یہ باتیں درد دل سے اور کچی تڑپ سے کہتا ہوں کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور ہر ایک ذرہ اس کے اختیار اور تصرف میں ہے۔لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ کوئی رسول ہو خواہ نبی ولی ہو یا کوئی غوث و قطب کوئی بھی اس کے لگے کا نہیں۔کوئی بھی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔سب اسی کے محتاج ہیں اور اسی کے نور سے روشنی حاصل کرنے والے ہیں اور اسی سے فیض پا کر دنیا کو پہنچاتے رہتے ہیں۔وہی ان سب کے کمال و فضل اور حسن و احسان کے انوار کا منبع اصلی ہے۔پس جب ایسا خدا موجود ہے تو پھر ایک مومن انسان کو کیا غم ہے اور کونسی خوشی اس کی باقی رہ گئی ہے؟ حضرت اقدس فرمایا کرتے ہیں کہ کسی کو اپنے مال پر خوشی ہوتی ہے کسی کو یار دوستوں پر مگر مجھے یہ خوشی کافی ہے کہ میرا خدا قادر خدا ہے۔مگر یہ باتیں ایمان ، یقین ، فکر اور تدبیر کو چاہتی ہیں اور اس بات کو چاہتی ہیں کہ انسان ہمیشہ رہنے کے واسطے نہیں بنایا گیا۔کسی کو کیا علم ہے کہ میں کل رہوں گا یا نہیں۔اس واسطے میں جب کبھی وعظ کرنے کھڑا ہوتا ہوں تو ہمیشہ آخری وعظ سمجھ کر کرتا ہوں۔خدا جانے پھر کہنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق دے عمل کی۔آمین۔خطبه ثانیه ایک دوست نے کل پوچھا تھا کہ صلوٰۃ اور برکات تو سمجھے مگر یہ جو قرآن شریف میں آیا ہے کہ سَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب :۵۷) سلام اور تسلیم کیا ہوا؟ اس کے واسطے یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ایک دین لائے تھے جس کا نام اسلام ہے اور وہ حقیقی خوشی راحت اور خوشحالی کی جڑ اور سرچشمہ ہے۔اس کی تعلیم پر چلنے سے انسان ہر دکھ سے نجات پاتا اور ہر سکھ اسے میسر ہوتا ہے۔دیکھو میں بہت بڑی عمر پا چکا ہوں اور اب بڑھا ہو گیا ہوں اس لئے میری شہادت اس امر میں کافی ہے۔قاعدہ ہے کہ ہر انسان کو ضرور تیں ہوتی ہیں اور کچھ اس کے ارادے اور خواہشات ہوتی ہیں۔کبھی کبھی انسان کو ان کے پورا کرنے کی کوششوں میں غلط کار روائی کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑتی ہیں اور