خطبات نور — Page 338
۲۴ اپریل ۱۹۰۸ء 338 خطبہ جمعہ تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ - مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ - وَ مِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ - وَ مِنْ شَرِ النَّقْتَتِ فِي الْعُقَدِ - وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق : ۲ تا۲)۔اور پھر فرمایا:۔چار قل جو نماز میں اور نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں ان میں سے یہ تیسرا قل ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ - قرآن شریف میں فلق کا لفظ تین طرح پر استعمال ہوا ہے۔فَالِقُ الْإِصْبَاحِ (الانعام:۹۷) فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى (الانعام (۲) پس خدا فَالِقُ الْإِصْبَاحٌ فَالِقُ الْحَبِّ اور فَالِيُّ النَّوَى ہے۔دیکھو رات کے وقت خلقت کیسی ظلمت اور غفلت میں ہوتی ہے۔بجز موذی جانوروں کے عام طور سے چرند پرند بھی اس وقت آرام اور ایک طرح کی غفلت میں ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے