خطبات نور — Page 302
302 گے۔اور یہ ضروری ہے کہ آپ کی سچی تعلیم و تربیت کا نمونہ ہمیشہ بعض ایسے لوگوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہے جو امت مرحومہ میں ہر زمانہ میں موجود ہوا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی بڑی صراحت سے اس بات کو الفاظ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ اللَّهِ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور (٥٢)۔اسی طرح سے اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ (۵۲)۔الصَّالِحِينَ کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے دین کے بچے خادموں جو صحابہ اولیاء اصفیاء اتقیاء اور ابدال کے رنگ میں آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے ان کے واسطے بھی بوجہ ان کے حسن خدمات کے جن کی وجہ سے انہوں نے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر بہت بڑے بھاری احسانات اور انعامات کئے ان کے واسطے بھی دعا کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی اس گروہ پاک کی مخالفت کرے گا اور اس کو نظر عزت سے نہ دیکھے گا اور ان کے احکام اور فیصلوں کی پرواہ نہ کرے گا تو وہ فاسق ہو گا۔بلکہ وہاں تک جہاں تک تعظیم الہی اور تعظیم کتاب اللہ اور تعظیم رسول اللہ اجازت دیتی ہو اس گروہ کا ادب و عزت کرنی اور اس خیل پاک کے حق میں دعائیں کرنے کا حکم قرآن شریف ے ثابت ہے۔چنانچہ آیت ذیل میں اس مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لَاخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَثُوفٌ رَّحِيمٌ (الحشر :- غرض اپنے پہلے بزرگوں اور خادمان اسلام و شریعت محمدیہ کے واسطے دعائیں کرنا اور ان کی طرف سے کوئی بغض و کینہ ، غل و غش دل میں نہ رکھنا، یہ بھی ایم رایمان کی سلامتی کا ایک نشان ہے۔پس انسان کو مریج و مرنجان ہونا چاہئے اور خدا کی باریک در باریک حکمتوں اور قدرتوں پر ایمان لانا چاہئے اور کسی سے بھی بغض و کینہ دل میں نہ رکھنا چاہئے۔خدا کی شان ستاری سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہنا چاہئے۔کیونکہ ممکن ہے کہ جن کو تمہاری نظریں برا اور بد خیال کرتی ہیں اسے توبہ کی توفیق مل جاوے۔اللَّهُ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ خدا اپنے بندوں کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر جس کا کسی ویران اور بھیانک وسیع جنگل میں سامان خور و نوش ختم ہو جاوے اور اس لئے اسے ہلاکت کا اندیشہ ہو مگر پھر اسے سامان میسر آجاوے۔جس طرح وہ شخص خوش ہو گا اس سے بھی کہیں بڑھ کر خدا اپنے بندوں کی توبہ سے خوش ہوتا ہے۔پس کسی کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔خدا نکتہ نواز بھی ہے اور نکتہ گیر بھی۔ممکن ہے کہ جسے تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو اسے