خطبات نور — Page 301
301 ہر ہوئی تھیں بھول کر ترک کر دیا اور ان ہی کو معبود یقین کر لیا۔ہم مسلمان بھی، ممکن تھا کہ ایسا کر بیٹھتے مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اور اس امت مرحومہ پر رحم کرنے اور ایسے خطرناک ابتلا سے بچانے کی غرض سے مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کا فقرہ ہمیشہ کے واسطے توحید الی لا اله الا الله کا جزو بنا کر مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے شرک سے بچالیا۔بلکہ اسی باریک حکمت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی مدینہ منورہ میں بنوائی مکہ معظمہ میں نہیں رکھی۔کیونکہ اگر مکہ معظمہ میں آپ کی قبر ہوتی تو ممکن تھا کہ کسی کے دل میں خیال پرستش آجاتا یا کم از کم دشمن اور مخالف ہی اس بات کا اعتراض کرتے۔مگر اب مدینہ میں قبر ہونے سے جو لوگ مکہ معظمہ میں جانب شمال سے جانب جنوب منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں تو ان کی پیٹھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف ہوتی ہے۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے یہ ایک راہ آپ کی قبر کے نہ پوجا جانے اور مسلمانوں کے شرک میں مبتلا نہ ہونے کے واسطے بنا دی۔غرض اسی طرح سے جن باتوں میں اس بات کا وہم و گمان بھی ہو سکتا تھا کہ کوئی انسان آپ کو خدا بنا لے گا یا آپ کے شریک فی الذات یا صفات ہونے کا گمان بھی جن باتوں سے ممکن تھا ان کا خود اللہ تعالیٰ نے اسلام کی کچی اور پاک تعلیم میں ایسا بند و بست کر دیا کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی مسلمان اس امر کا مرتکب ہو۔مگر چونکہ محسن سے محبت کرنا اور گرویدہ احسان ہونا انسانی فطرت کا تقاضا تھا اس واسطے ایک راہ کھول دی کہ ہم آپ کے لئے دعا کیا کریں اور اس طرح سے آنحضرت کے مدارج میں ترقی ہوا کرے۔چنانچہ مسلمان نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُه کاپاک تحیہ پیش کرتا ہے اور درد دل سے گداز ہو ہو کر گویا کہ آپ کے احسانات اور مہربانیوں کے خیال سے آپ کی ایسی محبت پیدا کر لیتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے موجود ہیں۔آپ کے حسن و احسانات کے نقش اور مہربانیوں سے آپ کاوجود حاضر کی طرح سامنے لا کر مخاطب کے رنگ میں دعا کرتا ہے اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ پر کہ عربی میں تالاب کو کہتے ہیں۔اس نشیب کا نام ہے جہاں ادھر ادھر کا پانی جمع ہو جاتا ہے۔مبارك بھی اسی سے نکلا ہے اور برکت بھی اسی میں سے ہے۔مطلب یہ کہ آنحضرت کی امت میں ہمیشہ کچھ ایسے پاک لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو آنحضرت کے اصلی اور حقیقی مذہب اور تعلیم توحید کو قائم کرتے اور شرک و بدعات کا جو کبھی امتداد زمانہ کی وجہ سے اسلام میں راہ پا جاویں ان کا قلع قمع کرتے رہیں