خطبات نور — Page 300
300 پاؤں وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم کے ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں اور ان سب کے مجموعہ کا نام بدن یا جسم ہے اس لئے بدنی عبادت کا نام صلوۃ ہے۔دل و دماغ خدا کی بزرگی اور حق سبحانہ کی عظمت کا جوش پیدا کرتے ہیں بذریعہ اس کے انعامات اور حسن و احسان میں غور کرنے کے۔اور پھر اس جوش کا اثر زبان پر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ زبان کلمات تعریف و ستائش کہنے شروع کر دیتی ہے اور پھر اس کا اثر اعضا اور ظاہری جوارح پر پڑتا ہے اور ادب و تعظیم کے لئے کمر بستہ ہونا، رکوع کرنا سجود کرنا وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم بجالاتے ہیں۔پھر یہ اثر اسی جگہ محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کے مال پر بھی پڑتا ہے اور اس طرح سے انسان اپنے عزیز اور طیب مالوں کو خدا کی رضا جوئی اور خوشنودی کے واسطے بے دریغ خرچ کرتا ہے اور اپنے مال کو بھی اپنے دل و دماغ، زبان اور ظاہری اعضا کے ساتھ شامل و متفق کر کے عبادت الہی میں لگا دیتا ہے تو اس کا نام ہے الطيبات جس کو بالفاظ دیگر یوں بیان کیا گیا ہے۔مالی عبادات اور یہ بھی صرف اللہ جل شانہ ہی کا حق ہے۔غرض التَّحِيَّات - الصَّلَوَات - الطَّيِّبات - تینوں طرح کی عبادت فقط اللہ جل شانہ ہی کا حق ہے۔کسی قسم کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔اللہ تعالیٰ اس بات سے غنی ہے کہ کوئی اس کا شریک اور سانجھی ہو۔السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه- قاعدہ کی بات ہے کہ ہر محسن اور مربی کی محبت کا جوش انسان کے دل میں فطرتا پیدا ہوتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر کیسے کیسے احسان ہیں۔وہی ہیں جن کے ذریعے ہم نے خدا کو جانا مانا اور پہچانا۔وہی ہیں جن کے ذریعہ سے ہمیں خدا کے اوامر و نواہی اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی راہیں بذریعہ قرآن شریف معلوم ہوئیں۔وہی ہیں جن کے ذریعہ سے خدا کی عبادت کا اعلیٰ سے اعلیٰ طریقہ اذان اور نماز ہمیں میسر ہوا اور وہی ہیں جن کے ذریعہ سے ہم اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج تک ترقی کر سکتے ہیں حتی کہ خدا سے مکالمہ و مخاطبہ ہو سکتا ہے۔وہی ہیں جن کے ذریعہ سے لا الہ الا اللہ کی پوری حقیقت ہم پر منکشف ہوئی اور وہی ہیں جو خدا نمائی کا اعلیٰ ذریعہ ہیں۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر اتنے احسانات اور انعامات ہیں کہ ممکن تھا کہ جس طرح سے اور قومیں اپنے محسنوں اور نبیوں کو بوجہ ان کے انعامات کثیرہ کے غلطی سے بجائے اس کے کہ ان کو خدا نمائی اور خداشناسی کا ایک آلہ سمجھتے انہی کو خدا بنا لیا اور توحید سکھانے والے لوگوں کو واحد دیگانہ مان لیا اور ان کی تعلیمات کو جو کہ نہایت خاکساری اور عبودیت سے بھری