خطبات نور — Page 299
299 طوطے کی طرح الفاظ کا رشتے رہنا اور حقیقت سے بے خبر ہو نا مفید نہیں ہے اور نہ ہی یہ خدا اور اس کے رسول کا منشاء ہے۔متوالوں کو جو حالت نشہ میں ہوں مسجد میں آنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔غرض قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل وقول میں غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے واسطے نماز کے مطالب خوب اچھی طرح سے ذہن نشین ہونے لازمی رکھے گئے ہیں۔پس ہر انسان کو لازمی ہے کہ نماز کے مطالب اور معافی کے سمجھنے کی کوشش کرے۔تحیہ۔عربی میں کسی کی تعریف مدح ، ستائش بڑائی اور اس کی مہربانیوں اور انعامات کے بیان کرنے میں اور اس کی شکر گزاری کے واسطے اس کے حسن و احسان کو یاد کر کے اس کے گرویدہ ہونے کے بیان کرنے کو کہتے ہیں اور بعض نے قولی عبادت بھی اس کا ترجمہ کیا ہے۔عبادت فرمانبرداری اور تعظیم کا نام ہے۔اس واسطے زبان سے جو کچھ عبادت اور فرمانبرداری کا اظہار کیا جاتا ہے اس کا نام تحیہ ہے۔چونکہ کل انعامات اور فیوض کا سچا اور حقیقی سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بجز اس کے خاص فضل کے ہم دنیا و مافیہا کے کل سامان آرام و آسائش سے متمتع نہیں ہو سکتے اس لئے صرف اسی کی حمد و ستائش کے گیت گانے اور اس کی فرمانبرداری کو سب پر مقدم کرنا چاہئے۔دیکھو! اگر کوئی ہمارا محسن ہمیں ایک اعلیٰ درجہ کی عمدہ اور نفیس گرم پوشاک دے مگر اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو اور ہمیں سخت محرقہ تپ ہو تو وہ لباس ہمارے کسی کام آ سکتا ہے اور اگر ہمارے سامنے اعلیٰ سے اعلیٰ مرغن کھانے قسم قسم رکھے جاویں مگر ہم کو قے کا مرض لاحق حال ہو تو ہم ان کھانوں کی لذت کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ غرض غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آسائش و آرام کے کل سامانوں کے مادے پیدا کرنا بھی جس طرح اللہ ہی کا کام ہے اسی طرح سے ان سے متمتع اور بارور ہونا بھی محض اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔صحت عطا کرنا، قوت ذائقہ بخشا، قوت ہاضمہ کا بحال رکھنا سب اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔اس لئے حکم ہے کہ وَامَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحى:٣)- تحدیث نعمت کرنا اور خدا کے انعامات کا شکر ادا کرنا ازدیاد انعامات کا باعث ہوتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لازِيدَنَّكُمْ (ابراهیم:۸)۔پس اس طرح سے تحدیث نعماء اور عطایا الہی اور شکر کا اظہار زبان سے کرنے کا نام ہے تحیہ۔صلوۃ اس تعظیم اور عبادت کا نام ہے جو زبان دل اور اعضاء کے اتفاق سے ادا کی جاوے۔کیونکہ ایک منافق کی نماز جو کہ ریا اور دکھلاوے کی غرض سے ادا کی گئی ہو نماز نہیں ہے۔نماز بھی ایک تعظیم ہے جس کا تعلق بدن سے ہے۔بدن کا بڑا حصہ دل اور دماغ ہیں۔چونکہ زبان نماز کے الفاظ ادا کرنے میں اور دل و دماغ اس کے مطالب و معانی میں غور کر کے توجہ الی اللہ کرنے میں اور ظاہری اعضاء ہاتھ