خطبات نور — Page 235
235 بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقره ۱۸۲) کا نزول ضرور ہو۔یہ تینوں امور نزول قرآن مجید کے لئے اس لئے ضروری ہیں کہ ایک تو ہدایت عام ہوتی ہے تمام آدمیوں کے لئے۔دوسرے اس ہدایت کے دلائل قطعیہ اور شواہد یقینیہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔اس کا مصدق کسوف و خسوف ماہ رمضان ۱۳۱۱ھ اور دیگر بینات واقع ہوئے۔تیسرے اس ہدایت عامہ کے لئے الفرقان ہونا چاہئے جیسا کہ واقعہ لیکھرام اور چراغ دین کے اس کے شواہد ہیں وغیرہ وغیرہ جو اس خطبہ میں مفصل بیان نہیں ہو سکتے۔پس جب ان ہر سہ امور کا نزول اس دور شمس و قمر مین ہم کو مشاہد ہو رہا ہے تو پھر ہم کیونکر تسلیم نہ کریں کہ زمانہ بعثت اس مسیح موعود کو ساتھ شہر رمضان کے بالضرور ایک مناسبت قوی ہے کما قال اللہ تعالٰی شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔پس اگر یہ زمانہ مسیح موعود کا شہر رمضان کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا تو پھر یہ نزول قرآن یعنی رد شبهات تمام فرق باطلہ کا قرآن مجید سے کیوں ہو رہا ہے؟ ہر ایک اہل بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ علت کے وجود سے معلول کا وجود سمجھا جاتا ہے اور معلول کے وجود سے علت کا وجود سمجھ میں آجاتا ہے اور جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بعثت کا ایک عظیم الشان لیلۃ القدر تھا کما قال اللہ تعالٰی وَمَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (القدر:٣) اسی طرح پر یہ آخری زمانہ یعنی دور شمس و قمر کا زمانہ ایک قسم کی لیلۃ القدر ہے کہ اس میں بھی اس مسیح موعود علیہ السلام پر نزول ملائکہ اور روح یعنی جبرائیل کا ہو رہا ہے جس کو کوئی مخالف نہیں ٹال سکتا کیونکہ بإِذْنِ رَبِّهِمْ (القدر:۵) ہے۔اور اسی لئے یہ مسیح موعود سلامتی کا شہزادہ ہے کمافی الالھام و کما قال الله تعالى سَلْمٌ هِىَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر (۲)۔چونکہ معارف الہامات مسیح موعود کے بے نہایت ہیں، اس لئے میں اب اس خطبہ کو نہیں ختم کرتا ہوں۔بَارَكَ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ وَنَفَعَنَا وَإِيَّاكُمْ بِالْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ إِنَّهُ تَعَالَى جَوَادٌ قَدِيمٌ كَرِيمٌ مَلِكٌ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ یہاں پر ایک رؤیا کا درج کرنا جو تاریخ ۱۳ / اکتوبر ۱۹۰۶ء کو بمقام امروہہ خاکسار کو ہوئی تھی بحکم تحدیث بالنعمۃ کے ضروری ہے۔۱۲ / تاریخ کی شب کو میں نے دیکھا کہ میں کسی شہر میں ہوں اور ایک مکان میں ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہوں۔کچھ لوگ تخت سے نیچے بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ تخت کے اوپر بھی ہیں اور میں بڑے زور و شور سے صرف إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه:) کی تفسیر سے مسلک احمدیہ اور دعاوی حضرت مسیح موعود کو ثابت کر رہا ہوں۔تمام مضمون کلام تفسیری مجھے کو یاد نہیں رہا مگر ما حصل اس مضمون کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو یہ آیت تعلیم فرمائی ہے اس سے مقصود الہی