خطبات نور — Page 234
234 اور فی الحقیقت عموماً حال یہ ہے کہ جو شخص مامور من اللہ ہو کر دنیا میں آتا ہے اس میں اور دوسرے لوگوں میں کسی نہ کسی قدر پردہ ضرور ہی ہوا کرتا ہے اور اس پردہ اور حجاب کے رفع کرنے میں سخت دشواریاں پیش آتی ہیں۔کما قال الله تعالى وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاغْشَيْنَهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (نيس :۔ہاں اگر کوئی طالب صادق ہوتا ہے اور ظلمات عناد اور تعصب سے دور ہو جاتا ہے تو پھر ان انوار معارف سے ایسا شخص منور اور بہرہ ور بھی ہو جاتا ہے۔لہذا بلحاظ اس پرده و حجاب کے قريبا مِّنَ الْقَادِيَانِ فرمایا گیانہ فِی الْقَادِيَانِ۔اور یہ امر تو ظاہر ہے کہ بہتی سے مراد بستی والے بھی ہوا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ایک محاورہ ہے جو ہر ایک زبان میں جاری ہے۔اور یہ بھی واضح ہو کہ شریعت اسلام میں تمام اوقات عبادات اور ازمنہ روحانیات کو ایک دور کے ساتھ قائم کیا ہے جس طرح پر جسمانیات اور زمانیات میں بھی یہ دور مشاہدہ ہو رہا ہے۔دیکھو فصل بہار کو کہ ہر ایک سال دورہ کرتی رہتی ہے اور نظر کرد تمام شمار اور غلہ جات وغیرہ کو کہ اپنے اپنے وقت پیداوار پر دورہ کرتے رہے ہیں اور غذائے انسان و حیوانات ہوتے ہیں۔اسی طرح پر نظام روحانی کا انتظام منجانب اللہ فرمایا گیا ہے۔دیکھو ایک ہفتہ ہی کو کہ یوم جمعہ ہمیشہ دورہ کرتا رہتا ہے جس کی برکات سے مومنین کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور ہفتہ بھر کی خطیئات کا کفارہ ہو جاتا ہے۔پھر دیکھو رمضان شریف اور موسم حج کو اور لیلۃ القدر وغیرہ کو کہ ہر سال ایک مرتبہ ان کا دورہ ہو جاتا ہے۔یہ کیوں؟ اسی لئے کہ مومنین کا ایمان ان کی برکات سے تازہ ہو تا رہے اور تجلیات الیہ کا ورود جن میں مکالمات الیہ ہیں، مومن منبع پر ہوتا رہے۔اسی طرح پر ہر ایک صدی پر واسطے تجدید دین اسلام کے مجددین کا دورہ ہوتا رہتا ہے كَمَا فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ۔چنانچہ اس چودہویں صدی میں دورہ مسیح موعود کا ہو رہا ہے۔یہ مسیح موعود عند اللہ قمر بھی ہے اور ایک لحاظ سے شمس بھی ہے۔كَمَا ثَبَتَ فِي مَحَلَّه۔یہ شمس و قمر کا دورہ رمضان شریف کے ساتھ بڑی مناسبتیں رکھتا ہے۔یعنی جس طرح پر رمضان شریف میں ایک قسم کی نفس کشی بسبب امساک کے اکل و شرب سے اور جماع سے کی جاتی ہے اسی طرح پر اس دور قمر میں مومنین متبعین کو کسی قدر صعوبتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔بلکہ بعض متبعین کو ترک اکل و شرب و جماع کا بھی تائید اسلام اور تبلیغ دین حق کے لئے کرنا پڑا ہے کہ اکثر جگہ پر ازواج میں باہم تفریق واقع ہو گئی اور مخالفین اکثر مخلصین کے اکل و شرب میں بھی خارج ہوئی۔دوسری مناسبت رمضان کو اس دور قمر کے ساتھ یہ ہے کہ جو معارف قرآنی بذریعہ اس شمس و قمر کے دنیا پر منکشف ہوئے وہ پچھلی صدیوں میں نازل نہیں ہوئے تھے اور رمضان کی خصوصیات سے ضروری ہے کہ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ