خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 703

خطبات نور — Page 185

185 بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفی اور شیریں چشمہ جاری ہوا۔غرض محرومی کا سب سے پہلا اور بڑا ذریعہ اباء (انکار) ہے اور پھر تکبر ہے۔آہ! اس سے بڑھ کر کسی شخص کی بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایک ہادی معلم اور مزکی کو معزز بنا کر بھیجتا ہے اور یہ اس کا ساتھ نہیں دے سکتا اور ان فیضانوں اور برکات سے جو اس کی معیت اور صحبت سے ملنے والے تھے محروم رہ جاتا ہے۔فرمانبرداری ہاں خدا کی فرمانبرداری ایسی راحت بخش اور زندہ جاوید بنانے والی دولت ہے جس نے آج تک اور ابد الآباد تک ابراہیم کو زندہ رکھا۔آج ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار تم ہر ایک گھر میں دیکھ سکتے ہو۔ایک غریب سے غریب آدمی بھی قربانی کا گوشت کھاتا ہے جو اس کی یادگار کو تازہ رکھتا ہے۔یہ قربانی بتاتی ہے کہ ابراہیم نے اپنی جان اور مال تک سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دریغ نہیں کیا۔پس جب تک انسان ابراہیمی رنگ اختیار نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے عزیز مال اور جان تک کو جو دراصل اس کا بھی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کا ہے، نثار کر دینے کے لئے شرح صدر سے تیار نہیں ہو جاتا، اس وقت تک وہ ان برکات اور فیضانوں کو پا نہیں سکتا جو ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو لے۔خدا تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کا انکار سلب ایمان کا موجب ہوتا ہے۔یہ انکار بہت ہی خطرناک چیز ہے اس لئے ہمیشہ اس سے بچو۔اپنی عقل، اپنی تدبیر اور رائے اپنے علم و تجربہ کو خدا کے راستباز کے سامنے پیچ سمجھ لو اور بالکل خالی ہو جاؤ۔تب وہ تم میں راستبازی اور حقیقی علوم کی روح نفخ کرے گا۔یہ اباء مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہوتا ہے۔کبھی زبان سے اقرار کرتا ہے لیکن دل اس کے ساتھ متفق نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نفاق ہوتا ہے اور یہ نفاق آخر کار کفر تک بھی لے جاتا ہے۔اس لئے دل اور زبان کو ایک کرنے کے لئے کوشش کرو اور ہ: اتعالیٰ سے توفیق اور فضل چاہو۔بعض لوگوں کے لئے ان کا مال و دولت خدمت گزاری اور نیکی کا خیال بھی اس امر سے روک دیا اور ان کے لئے سد راد ہو جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ضرورت نہ تھی تو خدا تعالیٰ نے اس کو نازل کیوں فرمایا ؟ وہ اس پر نہیں، خدا تعالیٰ کے فعل و فضل پر ہنسی کرتے اور اس کے پر حکمت فصل کو لغو ٹھہراتے ہیں (معاذ اللہ)۔اس لئے ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ نفس اور شیطان کے اس دھوکا سے ہمیشہ بچیں۔اپنی کسی بات پر تکبر نہ ہو۔کیونکہ وہی تکبر پھر کسی اور رنگ و صورت میں انکار کا باعث ہو جاوے گا۔یہ بہر حال زہر ہے۔اس سے مطمئن ہو رہنا عظمندی نہیں ہے۔بعض نادان ناحق شناس امور اور مرسلوں کے آنے پر یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ لَنْ تُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى