خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 3
معاملات کی طرف ہر ملک میں بار بار اپنے خطبات میں توجہ دلاتا ہوں کیونکہ دورے کی وجہ سے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد جمعہ پر حاضر ہو جاتی ہے۔ہر احمدی کے اندر ایک نیکی کا بیچ تو ہے۔خلافت سے ایک تعلق تو ہے جس کی وجہ سے باوجود عمومی کمزوریوں کے جب سنتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا دورہ ہے اور خطبہ ہے، جلسہ ہے تو ایک خاص شوق اور جذبے سے اس پروگرام میں شامل ہوتے ہیں چاہے خطبہ ہو یا کوئی اور پروگرام ہو۔خدا تعالی کے شکر گزار بندے بنیں پس آج اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں سوئٹزرلینڈ کے احمدیوں کو بھی بعض امور کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور سب سے پہلی بات تو یہی ہے جو شروع میں میں نے کہی کہ عبد شکور بنیں، شکر گزار بندے بنیں۔خاص طور پر یورپ کے ممالک میں آنے والے احمدی آپ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے سوئٹزرلینڈ میں آ کر رہنے اور مالی سکون و کشائش عطا فرمائے ، ان کو بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے شکر گزاری کے مضمون کو قرآنِ کریم میں مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ (ابراہیم:8) اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ لوگو! اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی ہے یا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اظہار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی شکر گزاری اور اس کا اظہار کیا ہے؟ اس کی شکر گزاری کا اظہار اس کی کامل فرمانبرداری ہے۔اس کے