خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 2
2 ضروری ہیں پھر بھی سو فیصد افرادِ جماعت اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور ایک خاصی تعداد مردوں، عورتوں اور نو جوانوں میں ایسے افراد کی ہے جو باقاعدگی سے خطبہ بھی نہیں سنتے۔یاسن لیں تو یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید جس جگہ خطبہ دیا جارہا ہے وہاں کے لوگوں کے لئے ہے۔خطبہ کا مخاطب ہر احمدی ہوتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہتا ہو حالانکہ ہر خطبہ کا مخاطب ہر احمدی ہوتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہتا ہو۔خاص طور پر جو پرانے احمدی ہیں ان میں یہ بڑی غلط رو پیدا ہوگئی ہے۔نئے ہونے والے احمدیوں میں عربوں میں سے بھی لکھتے ہیں، یا جو نو مبائعین ہیں ملاقاتوں میں بتاتے ہیں کہ بعض خطبات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے حالات کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں۔اب کچھ عرصہ سے رشین میں بھی باقاعدہ خطبہ کا ترجمہ MTA سے نشر کیا جاتا ہے اور روس کے مختلف ممالک سے احمدیوں کے جو وہاں کے مقامی احمدی ہیں خطوط بڑی کثرت سے آنے لگ گئے ہیں کہ خطبات نے ہم پر مثبت اثر کرنا شروع کر دیا ہے اور بعض اوقات تربیتی خطبات پر یوں لگتا ہے کہ جیسے خاص طور پر ہمارے حالات دیکھ کر ہمارے لئے دیئے جارہے ہیں۔بلکہ شادی بیاہ کی رسوم پر جب میں نے خطبہ دیا تھا تو اس وقت بھی خط آئے کہ ان رسوم نے ہمیں بھی جکڑا ہوا ہے اور خطبہ نے ہمارے لئے بہت ساتر بیتی سامان مہیا فرمایا ہے۔تو جو احمدی اس جستجو میں ہوتے ہیں کہ ہم نے خلیفہ وقت کی آواز کو سنتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے، اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہے وہ نہ صرف شوق سے خطبات سنتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی ان کا مخاطب سمجھتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا ایک تعداد ایسی بھی ہے جو یا تو خطبات کو سنتی نہیں یا اپنے آپ کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتی یا رسمی طور پر سن لیتی ہے۔اس لئے میں بعض