خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 26

خطبہ جمعہ ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء — Page 4

4 حکموں کی پابندی ہے۔جن باتوں کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے انہیں پوری توجہ سے سرانجام دینا ہے اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان سے کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھاتے ہوئے رُک جانا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے تو ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ اپنی زندگی عبد شکور بن کر گزارے اور عید شکور بننے کے لئے اپنے دل و دماغ میں اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یا در کھے۔اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یادر کھتے ہوئے اس کے ذکر سے کررکھے۔اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے نوازا ہے انہیں یا در کھے اور انہیں یا در کھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد کا اظہار ہو۔اللہ تعالیٰ کی حمد زبان پر جاری رہے اور صرف زبان پر نہ جاری ہو بلکہ ایک حقیقی مومن کا اظہار اس کے ہر عضو سے ہوتا ہو، اس کی ہر حرکت وسکون سے ہوتا ہو۔اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ بنے کی کوشش ہو۔یہ عاجزی اس وقت ہو سکتی ہے جب حقیقت میں تمام نعمتوں کا دینے والا خدا تعالیٰ کی ذات کو سمجھا جائے۔اللہ تعالیٰ کا پیار دل میں ہو۔جو نعمتیں اس نے دی ہیں ان کا استعمال اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ہو۔صحت مند جسم دیا ہے تو عبادت اور اس کے راستے میں اس کے دین کی خدمت کر کے اس کا شکر ادا کریں۔اگر کشائش عطا فرمائی ہے تو کسی قسم کی رعونت، تکبر اور فخر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرف توجہ کریں۔اگر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور استعدادوں اور مال اور اولاد کے صحیح مصارف خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ہیں تو طبعی شکر گزاری بھی ہے اور پھر خدا تعالیٰ جو اپنے بندے پر بہت رحم کرنے والا ہے اور ایک کے بدلے کئی گنا دینے والا ہے۔وہ استعداد میں بھی بڑھاتا ہے صحت بھی دیتا ہے، کشائش بھی دیتا ہے، ایک عابد بندے کو اپنے قرب سے بھی نوازتا ہے۔اس کا جو مقصد پیدائش ہے اس کے حصول کی بھی توفیق دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر انسان اپنے زور بازو سے عبادت یعنی مقبول عبادت بھی نہیں