خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 88

خطبه الهاميه ۸۸ اردو ترجمہ۔يا حسرة على الذين يقولون اس وقت کے علماء پر بڑا افسوس ہے کہ وہ انا نحن العلماء۔انهم میرے مددگار نہ ہوئے بلکہ سب سے پہلے ما صاروا من انصاری بل مجھے تکلیف دی تا کہ اس پیشگوئی کو اپنے مونہہ اروا اول من أذى۔سے پورا کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ليتموا نبأ الرسول بالسنهم نے کی تھی۔اور ایک شخص جو سب سے بڑا وماروی عن خير الورى ظالم تھا اس نے میری نسبت کہا کہ اس شخص کو ۶۷) وقال اظلمهم اقتلوا هذا قتل کرو کہ میں ڈرتا ہوں کہ تمہارے دین میں الرجل اني اخاف اَنْ تُبدل خلل ڈالے گا اور اس سے تمہاری وجاہت و دينكم او يحطكم اذا علا۔عزت میں فرق آجائے گا۔اے حاسد و ! تم پر يا اهل الحسد والهواى۔ويلكم افسوس ہے کہ تم اس ذراسی دنیا کی زندگی کو لم تؤثرون هذه الحيوة الدنيا۔اختیار کرتے ہو اور واقعی قرآن نے گواہی وان القرآن يشهدان خاتم دی ہے کہ اس امت کا خاتم الخلفاء اسی امت خلفاء هذه الامة رجل من الأمة میں سے ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام وفات وان المسيح من الموتى۔ومن پاگئے ہیں اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون اظلم ممن الذي عصی القرآن ہے کہ قرآن کی نافرمانی کر کے روگردانی وابي۔وهو الحَكَمُ من الله و لا کرے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے فیصلہ حكم الا حكمه الاجلی۔اولم کرنے والا ہے اور اسی کا حکم حکم ہے کیا آیت تكفكم اية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی لے تم کو کفایت نہیں کرتی یا او عندكم صحف اخرای۔وان تمہارے پاس اور قرآن ہیں اور بیچ یہ ہے کہ سورة النور تكذبكم والفاتحة سورةۃ نور تمہیں جھٹلاتی ہے اور سورۃ فاتحہ تفتح عليكم باب الهدی۔فان تمہارے لئے ہدایت کی راہ کھولتی ہے چنانچہ الله بدء فيها من المبدء وجعل خدا تعالیٰ نے اس میں مبدء عالم سے ابتدا کیا المائدة : ١١٨۔