خطبة اِلہامِیّة — Page 87
خطبه الهاميه ۸۷ اردو ترجمہ و انتم تكرهون ان يموت تم کو اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام عبدالله عیسی۔ولا نفع فوت ہو جائیں۔اور ان کی زندگی میں تمہارا کچھ لکم فی حیوتہ وللہ فی نفع نہیں ہے مگر خدا کے لئے ان کی موت میں موته مآرب عظمى۔ألهٔ بڑے بڑے مقصد ہیں۔کیا عیسی علیہ السلام کا شركة في السّماء مع آسمان میں سکونت رکھنا خدا تعالیٰ کے ساتھ ربنا فلا يبرح مقامه ولا شرکت ہے جو اس وجہ سے آسمان کو نہیں چھوڑتے يتدلى۔فلا تحاربوا الله بجھلکم اور اس جگہ سے نقل مکان نہیں کرتے پس اپنی وصلوا على نبيكم المصطفی جہالت سے خدا کے ساتھ جنگ مت کرو۔اور خدا وهــــو الـوصلة بين کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو کہ وہ خدا اور الله وخلقه وقاب قوسین مخلوق میں وسیلہ ہیں۔اور ان دونوں قوس او ادنی۔اسمعتم منى ما الوہیت اور عبودیت میں آپ کا وجود واقع ہے۔لا اسمعكم القرآن او رأیتم آیا مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات سنی ہے جو قرآن (۲۵)۔عيسى في السماء فکبر نے نہیں سنائی یا عیسی علیہ السلام کو آسمان میں دیکھ عليكم ان تُكَذِّبوا اعینکم لیا ہے جو تم کو گراں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اپنی اوظننتم ظنا وان الظن آنکھ سے دیکھ لیا ہے اس کا انکار کر دیا یہ محض گمان لا يغني من الحق شيئًا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ محض گمان قائم مقام یقین وقد علمتم ان القرآن کے نہیں ہوتا اور یہ تحقیق تم نے جان لیا کہ قرآن نے اهلكة وتوفى۔فبأي حديث عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دیدی ہے اب بعد قرآن تؤمنون بعده و تکفرون کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے آیا حدیث کے لئے بما انزل الله و اوحی قرآن کا انکار کرو گے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اتتركون اليقين لظن نازل ہوا ہے۔کیا اس گمان کے لئے جس نے تم اهلک قبلکم قوما و اردی سے پہلی قوم یہود کو ہلاک کیا یقین کو ترک کرو گے؟