خطبة اِلہامِیّة — Page 89
خطبه الهاميه ۸۹ اردو ترجمہ أخر الازمنة زمن الضالين وانهم ہے اور دنیا کے اس سلسلہ کو ضالین کے زمانہ پرختم هم النصارى كما جاء من نبينا کیا ہے اور وہ نصاریٰ کا گروہ ہے چنانچہ رسول اللہ المجتبى۔فاين فيها ذكر صلى اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔اب دجالكم فاروناه من القرآن وقد بتاؤ تمہارے دجال کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کہاں ہے هلک من ترک القرآن اگر ہو تو قرآن میں ہمیں دکھلاؤ جس نے قرآن کو و عادای اهله وقلی۔أنسى ترک کیا اور ان کو دشمن پکڑا جو قرآن کے خادم ہیں الخبير العليم ما حفظتموه او وہ ہلاک ہو گیا کیا خدائے علیم وخبیر نے افتريتم على كتاب الله ومن بھلا دیا جو تم نے یاد کر رکھا ہے یا خدا کی اظلم ممن افترى وانه لقول کتاب پر افترا کرتے ہو اور مفتری سے زیادہ فصل لا غبار عليـه وانـه لبيان ظالم کون ہے اور تحقیق قرآن ایک فیصلہ کرنے اظهر و اجلى۔وان هذا لهو والا قول ہے کوئی غبار اس پر نہیں ہے اور وہ الحق و من اصدق من الله روشن اور ظاہر بیان ہے اور بیچ یہی ہے۔خدا قيلا۔ومن اعلم من ربّنا الاعلی سے زیادہ سچا اور اس سے زیادہ جاننے والا (۲۹) ام عندكم حجة تمنعكم من کون ہے۔کیا تمہارے پاس کوئی حجت ہے کہ القرآن فأتوا بها ان كنتم تتقون قرآن کی پیروی سے روکتی ہے وہ حجت ہم کو دکھلاؤ الله ولا تتبعون الهوای اگر خدا سے ڈرتے ہو اور حرص و ہوا کی پیروی نہیں وتعلمون ان الفاتحة اُمّ کرتے ہو۔تم جانتے ہو کہ سورۃ فاتحہ ائم القرآن الكتاب وانها تنطق بالحق وفيها ہے جو کچھ حق ہے وہی فرماتی ہے اور اس میں ان ذكر اخيار أمةٍ خلت من قبل نیکوں کا ذکر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے گزرے ہیں وذكر شرهم الذين غضب الله اور ان بدوں کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے عليهم في هذه الدنيا و ذکر ہوئے ہیں اور خدا نے ان پر غضب کیا اور ان کا الذين اختتمت عليهم هذه بھی ذکر ہے کہ جن پر اس سورۃ کو ختم کیا گیا ہے یعنی