خطبة اِلہامِیّة — Page 244
خطبة الهامية ۲۴۴ اردو ترجمہ وسلامه وبركاته الکبری، وجعل اور آپ کے بہترین متبعین کے سلسلہ کو اس سلسلة الأخيار الذين اتبعوه إلى مدت تک لے گیا جو اس نصف مدت کا مدة هي نصف النصف الذي نصف ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دی أعطى لعيسى، أعنى القرون گئی یعنی تین صدیوں تک جو رسول کریم الثلاثة التي انقرضت إلى ثلاث صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تین سوسال مائة من سيدنا المجتبى فكان گزرے۔پس موسیٰ کی امت کا زمانہ کامل عهدُ أُمّة موسى يضاهي نهارا اور تمام دن کے مشابہ ہے اور اس کی كاملا تمامًا، ويضاهى عددُ مِناتِه صدیوں کی تعداد دن کی گھڑیوں کی تعداد عدد ساعاته، وعهد أُمة عيسى کے برابر ہے۔عیسی علیہ السلام کی امت کا يضاهي نصف النهار في حد زمانه فِي حَدِ ذَاتِہ اس دن کے نصف کے ذاته، وأما عهد أخيار أُمّة۔أُمّة خيرِ مشابہ ہے لیکن خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم الرسل الذين كانوا إلى القرون کے اخیار امت کا زمانہ جو تین صدیوں تک الثلاثة فهو يضاهي نصف نصف تھے نصف دن کے نصف کے مشابہ ہے یعنی النهار أعنى وقت العصر الذي هـو ثــلاث ساعة من الأيام عصر کا وقت جو متوسط دنوں میں تین گھنٹے کا ہوتا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ کی تقدیر اور المتوسطة۔ثم بعد ذالك ليلة ليلاء بقدر من الله وحكمة، وهي اس کی حکمت کے مطابق تاریک رات آ گئی جو ظلم اور جور سے بھری ہوئی تھی اور مملوّة من الظلم والجور إلى ألف سنة۔ثم بعد ذالك تطلع وه ایک ہزار سال تک چلتی چلی گئی۔پھر وہ اس کے بعد خدائے رحمن کے فضل سے مسیح شمس المسيح الموعود من موعود کا سورج چڑھنا مقدر تھا۔پس یہ معنی اُس فضل الرحمن، فهذا معنى العصر الذي جاء في القرآن۔هذا ما عصر کے ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہے۔