خطبة اِلہامِیّة — Page 245
خطبة الهامية ۲۴۵ اردو ترجمہ ظهر علينا من حقيقة وقت اور یہی وقت عصر کی حقیقت ہے جو ہم پر ظاہر العصر، ولكن مع ذالک قُرب ہوئی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی قرب قیامت القيامة حتى صحيح ثابت من بالكل صحیح بات ہے جو قرآن کریم سے ثابت الفرقان وللقرآن وجوہ ہے اور اہل عرفان ( عارفوں) کے نزدیک عند أهل العرفان، فهذا وجه قرآن مجید کی مختلف تو جیہات ہو سکتی ہیں۔پس و ذلك وجه و کلاهما صادقان ایک پہلو یہ ہے اور ایک پہلو وہ ہے۔اور غور عند الإمعان، ولا ينكره إلا جاهل کرنے پر دونوں درست ہیں اور اس کا انکار ضرير أو متعصب أسير في جاہل ، اندھے اور سرکشی کے پردوں میں اسیر حجب العدوان، لأن المعنى متعصب کے سوا کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ جو معنے الذي قدمناه فی البیان يحصل به اپنے بیان میں ہم نے پہلے ذکر کئے ہیں۔ان التفصى من بعض الإشكال التي سے ان بعض اشکال سے نجات ملتی ہے جو تختلج في جنان بعض عطاشی عرفان کے بعض پیاسے دلوں میں شیطان کے العرفان، من تتابع وساوس بار بار کے وساوس سے خلجان پیدا کرتے ہیں۔علاوہ الشيطان۔ثم إن هذا المعنى ازیں یہ معنے بخاری اور موطا کی حدیث کو ينجى حديث البخاري والموطأ معترضین کے اعتراض سے بچاتے ہیں اور اس من طعن الطعان، ومن اعتراض معترض کے اعتراض سے بھی بچاتے ہیں جو معترض يتقلّد أسلحة تنقید کی خاطر ہر وقت اسلحہ لٹکائے پھرتا ہے۔لِلطَّعْنان۔وتقرير الاعتراض أنه معترض كا اعتراض یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ كيف يمكن أن يشبه زمان اسلام کے زمانہ کو عصر کے وقت سے تشبیہ دی الإسلام بوقت العصر وقد ساوی جائے جبکہ اس دین کا زمانہ موسیٰ علیہ السلام زمان هذا الدین زمان موسی کے زمانہ کے برابر ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین وزاد علی زمان دین عیسی بل کے زمانہ سے زیادہ ہے بلکہ اس عصر کے وقت تک