خطبة اِلہامِیّة — Page 233
خطبة الهامية ۲۳۳ اردو ترجمہ۔ربّ العالمين۔وكان قُدّر أن مقدر تھا کہ تھوڑے سے نیک بندوں کے الناس يضلون كلهم في الألف سوا باقی سب لوگ چھٹے ہزار میں گمراہ السادس إلا قليل من الصالحين، ہو جائیں گے۔اسی لئے شیطان نے کہا تھا فلأجل ذالك قال الشيطان کہ میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا۔لأغوينهم أجمعين، ولو لم يكن اگر یہ تقدیر نہ ہوتی تو وہ لعین یہ بات کرنے هذا التقدير لما اجترأ على هذا کی جرات نہ کرتا اور چونکہ وہ جانتا تھا کہ القول ذالك اللعين ولما كان اللہ نے ان زمانوں کے پیچھے بعث و ہدایت يعلم أن الله قفى هذه الأزمنة اور نہم و درایت کا زمانہ رکھا ہوا ہے اس لئے اس نے اِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ کہا تھا۔پس بزمان البعث والهداية والفهم حاصل کلام یہ ہے کہ زمانوں میں سے والدراية، قال إلى يَوْمِ يُبعثون۔آخری زمانہ بحث کا زمانہ ہے جیسا کہ اہل فالحاصل أن آخر الأزمنة زمان علم جانتے ہیں۔گویا کہ اللہ نے چھ ہزار البعث كما يعلمه العالمون۔سالوں کو چھ زمانوں میں تقسیم کیا تھا اور ساتویں ( ہزار ) کے ایک حصہ میں فكأن الله قسم الألوف الستة على الأزمنة الستة، وأودع بعض قیامت کو رکھ دیا۔جب چھٹا ہزار آیا جو کہ حصص السابع للقيامة۔ولما جاء خدائے کریم کی طرف سے بحث کا زمانہ الألف السادس الذي هو زمان ہے تو گمراہ کرنے کا کام مکمل ہو گیا اور البـعـث مـن الله الكريم، تم أمرُ کمینے شیطان کی وجہ سے لوگ کئی فرقوں الإضلال وصار الناس فِرَقًا كثيرة میں بٹ گئے۔سرکشی بڑھ گئی اور مختلف من الشيطان اللئيم وزاد گروہ اس طرح ٹھاٹھیں مارنے لگے جیسے الطغيان وتموّج الفرق كتموّج بھاری لہریں ٹھاٹھیں مارتی ہیں اور الأمواج الثقال، وشمخ الضلالة گمراہی پہاڑوں کی طرح بلند ہو گئی اور