خطبة اِلہامِیّة — Page 169
خطبه الهاميه ۱۶۹ ارد و ترجمه الذهب والفضة كالجبال پہاڑوں برابر سونا چاندی اسلام کے نابود لتكذيب الإسلام والإبطال کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو اسلام کے وارتداد المسلمين، ويُؤلفون دائرہ سے نکالنے کے لئے خرچ کریں گے اور كتبًا مملوّة من التوهين اسلام کی تو ہین سے بھری ہوئی کتا ہیں تالیف وقد أشار الله في كثير من کی جائیں گی اور بہت سے مقاموں میں خدا المقام أن تلك الأيام تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ دن اسلام کی أيام الغُربة للإسلام، و غربت کے دن ہوں گے اور مسلمان اس زمانہ هناك يكون المسلمون میں قیدیوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور كالمحصورين، وتهبّ عليهم تفرقہ اور پراگندگی کی ہوائیں اُن کے سر پر عواصف التفرقة فيكونون چلیں گی پس وہ بکھر جائیں گے اور پراگندہ ہو (۱۸۸) في كعضين۔فأما قوله بَعْضَهُم جائیں گے اور يَمُوجُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ يَوْمَدٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ سے مراد یہ ہے کہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ فيريد منه أن فرقة تأكل فرقة کو کھا جائے گا اور یا جوج ماجوج سربلندی أخرى، وتعلو يأجوج ومأجوج پائیں گے اور تمام سطح زمین پر اُن کے نکلنے وتسمعون أخبار خروجهم فی کی خبریں سننے میں آئیں گی اور اُن دنوں الأرضين وفي تلك الأيام میں اسلام بوڑھی عورت کی طرح ہوگا اور لا يكون الإسلام إلا كعجوزة، اُس میں کسی طرح کی قوت اور عزت نہیں ولا يبقى له من قوة ولا من عزّة، رہے گی اور ذلت پر ذلت اُس کو پہنچے گی وتصيبه ذلّة على ذلّة، وكاد اور قریب ہوگا کہ بغیر تجہیز و تکفین کے زمین أن يُقبر من غير التجهیز میں گاڑ دیا جائے۔اور ایسی مصیبتیں اس والتكفين، وتُصبّ عليه مصائب کے سر پر پڑیں گی کہ پہلے زمانہ میں کسی ما سمعت أذن مثلها من قبل، کان نے اس جیسا نہ سنا ہوگا اور جاہلوں کے ا ( الكهف : ١٠٠)