خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 168

خطبه الهاميه ۱۶۸ ارد و ترجمه والمراد من كُلِّ حَدَبِ ظفرُھم اور ہر ایک بلندی سے دوڑ نے سے یہ وفوزهم بكل مراد وعروجهم مطلب ہے کہ ہر ایک مراد اور مقصود میں کامیابی اور شاد کامی ان کو میسر (۱۸۷) إلى كل مقام وكونهم فوق كل رياسة قاهرين۔والمراد آئے گی اور ہر ایک سلطنت اور من قوله بَعْضَهُمْ يَوْمَذِيَّمُوجُ ریاست ان کے تصرف میں آجائے گی فِي بَعْضِ أن نار الخصومات تستوقد في ذالك الزمان في اور يَمُوجُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ سے یہ كــل فـــــــرقـة مــــــن فــــــــرق مراد ہے کہ اس زمانہ میں تمام فرقوں أهل الأديان، وینفقون میں جنگ کی آگ بھڑک اُٹھے گی اور بقية الحاشية - قُلْ هَلْ تُنَبِّئُكُمْ حاشیہ - قُلْ هَلْ تُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِيْنَ أَعْمَالًا بِالْأَخْرِينَ أَعْمَالًا الَّذِيْنَ ضَلَّ الَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمُ وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعات۔اور اسی طرح فرمان الہی ہے قُل لَّوْ صنعا و کذالک قوله قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمُتِ رَبِّي اور كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ بلا شبہ عیسائی وہ قوم ہیں جنہوں نے مسیح کو اللہ کے ربي ولاشك ان النصاری قوم علاوہ معبود بنالیا اور دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور صنعتوں اتخذوا المسيح معبودا من دون الله و تمايلوا على الدنيا و سبقوا غيرهم کی ایجاد میں غیروں پر سبقت لے گئے اور انہوں نے فی ایجاد صنایعها و قالوا ان المسیح کہا کہ مسیح ہی کلمتہ اللہ ہے اور مخلوق ساری کی ساری كلمة الله والمخلوق كله من هذه اسی کلمہ سے ہے۔پس یہ آیات ان کی تردید کرتی ہیں۔هو الكلمة فهذه الآيات ردّ عليهم۔منه (الکہف: (۱۰۰) سے کہہ دے کہ کیا ہم تمہیں ان کی خبر دیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والے ہیں۔جن کی تمام تر کوششیں دنیوی زندگی کی طلب میں گم ہو گئیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ صنعت کاری میں کمال دکھا رہے ہیں۔(الکہف: ۱۰۵،۱۰۴) سے کہہ دے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی بن جائیں۔(الکہف: ۱۱۰)