خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 164

خطبه الهاميه ۱۶۴ ارد و ترجمه العمين ألا تفكرون في آية گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ وكيف يتحقق سے سر نہیں پھیرتا۔کیا وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ مفهوم لفظ مِنْهُم مِن غير أن کی آیت میں فکر نہیں کرتے۔اور کس طرح ۱۸۱ يكون الرسول موجودا في مِنْهُمْ کے لفظ کا مفہوم متحقق ہوا گر رسول کریم الآخرين كما كان في الأوّلين۔فلابد من تسليم ما ذكرناه ولا مَفَرَّ للمنكرين ومن آخرین میں موجود نہ ہوں جیسا کہ پہلوں میں موجود تھے۔پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا أنكر من أن بعث النبي عليه اُس کی تسلیم سے چارہ نہیں اور منکروں کے السلام يتعلق بالألف السادس لئے بھاگنے کا رستہ بند ہے اور جس نے اس كتـعـلـقـه بـالألف الخامس ، فقد بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت أنكر الحق ونص الفرقان، وصار چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں الظالمين بل الحق ان ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اُس نے حق کا روحانيته عليه السّلام كان فى اور نَصِ قرآن کا انکار کیا۔بلکہ حق یہ ہے کہ آخر الألف السادس أعنى في آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے هذه الأيام أشد وأقوى وأكمل ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں یہ نسبت من تلك الأعوام، بل كالبدر ان سالوں کے اقومی اور اکمل اور اشد ہے ۱۸۲) التام، ولذالك لا نحتاج إلى بلکہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے۔الحسام، ولا إلى حزب من محاربين، ولأجل ذالك اختار الله سبحانه لبعث المسيح اور اس لئے ہم تلوار اور لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے مسیح الموعود عِدةً من المئات كعدة موعود کی بعثت کے لئے صدیوں کے شمار کو رسول کریم کی ہجرت کے بدر کی راتوں کے ليلة البدر من هجرة سيدنا۔