خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 163

خطبه الهاميه ۱۶۳ ارد و ترجمه الألف الخامس بالقطع واليقين۔يقيناً پانچویں ہزار میں تھی پس شک نہیں فلا شك أن هذه إشارة إلى کہ یہ اشارہ ہے تجلی تام کے وقت کی وقت التجلي التام واستيفاء طرف اور استیفاء مرام کی طرف اور المرام وكمال ظهور الروحانية و أيام تموج الفيوض المحمدية روحانیت کے ظہور کے کمال کی طرف اور جہان میں محمدی فیوض کے موج في العالمين، وهو آخر الألف مارنے کے دنوں کی طرف۔اور یہ السادس الذي هو الزمان المعهود لنزول المسیح الموعود چھٹے ہزار کا آخر ہے جو زمانہ کے مسیح كما يُفهم من كتب النبيين۔وإن موعود کے اُترنے کے لئے مقرر هذا الزمان هو موطأ قدمه علیه ہے۔جیسا کہ انبیا کی کتابوں سے سمجھا السلام من الحضرة الأحدية جاتا ہے۔اور یہ زمانہ یقیناً خدا تعالیٰ کی ايُفهم من آية طرف سے آنحضرت کے قدم رکھنے کی | وَاخَرِيْنَ مِنْهُم وآيات أخرى جگہ ہے جیسا کہ آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ من الصحف المطهرة، ففكّر إن اور پاک تحریروں کی دوسری آیتوں كنت من العاقلين واعلم أن سے مفہوم ہوتا ہے۔پس اگر تو عقلمند ہے۔نبینا صلى الله عليه وسلم كما تو فکر کر اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی بعث في الألف الخامس اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں کذالک بـعـث في آخر الألف مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی السادس باتخاذه بروز المسيح الموعود، و ذالک ثابت بنص بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار القرآن فلا سبيل إلى الجحود، کے آخر میں مبعوث ہوئے۔اور یہ ولا ينكره إلا الذي كان من قرآن سے ثابت ہے اس میں انکار کی ۱۸۰