خطبة اِلہامِیّة — Page 153
خطبه الهاميه ۱۵۳ ارد و ترجمه والسماء عليه، وقد جُمع فيه كل اس میں وہ ہر ایک چیز جمع ہوگئی ہے جو اگلوں ما تفرق في الأولين وإنى میں پراگندہ تھی اور میں اس جمعہ میں عصر کے خُلقت في هذه الجمعة فى وقت اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام اور ساعة العصر والعُسر للإسلام مسلمانوں کو تنگی اور عسر نے گھیر لیا تھا پیدا کیا والمسلمين، كما خُلق آدم گیا ہوں جیسا کہ آدم صفی اللہ جمعہ کی آخری صفی الله في آخر ساعة گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آدم کا زمانہ اس الجمعة وإن زمانه كان نموذجا وقت کے لئے بطور نمونہ کے تھا اور اس کے۔لهذا الحين، وكان وقت عصره عصر کا وقت اس عصر کے لئے سایہ کے طور پر ظلا لهذا العصر الذي عُصِرَ تھا کہ اس میں اسلام کا گلا گھونٹا گیا اور (۱۶۳) الإسلام فيه وصبت مصائب ہمارے دین پر مصیبتیں پڑیں اور قریب ہے على ديننا، وكادت أن تغرب کہ دین کا آفتاب غروب ہو جائے اور ظاہر شمس الدين وترون في هذه ہے کہ ان دنوں اسلام کا نور تاریکی کی اور الأيام أن نور الإسلام قد عُصر لیموں کی زیادتی اور دشمنوں کے حملوں سے جو قلم من كثرة الظلام واللئام وصولِ کے ساتھ ہیں اور تکذیب کرنے والوں کی وجہ المخالفين بالأقلام والمكذبين سے کم ہو گیا ہے۔اور قریب تھا کہ اس کا کچھ وكاد أن لا يبقى أثر منه لو لم نشان بھی باقی نہ رہتا اگر خدائے کریم کا فضل يتداركه فضل الله الكريم اس کا تدارک نہ کرتا چنانچہ اسی سبب سے المعين۔فاقتضت غيرةُ الله أن خدا کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اس میں ایک يبعث فيه مجددًا يشابه آدم مجدد کو پیدا کرے جو آدم سے مشابہ ہو۔پس فخلقني في هذا اليوم فی وقت اس دن عصر کے وقت یعنی عمر کے وقت العصر أعنى ساعة العسر میں مجھے کو پیدا کیا اور مجھ کو اپنے پاس سے وعلمني من لدنه و اکرم سکھایا اور عزت دی اور اپنے بزرگ بندوں (۱۶۴) اور