خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 151

خطبه الهاميه ۱۵۱ ارد و ترجمه في هذا لآية لقوم يطلبون۔وكان نہ رہا اور البتہ اس میں طالبوں کے لئے ایک نشان هذا من معالم الموعود فی ہے اور یہ بات قرآن میں اس موعود کی نشانیوں القرآن ويعلمها المتدبّرون وإن میں سے تھی اور اس کو تذ بر کرنے والے جانتے ہیں الألف السادس كاليوم السادس اور البتہ چھٹا ہزار اس چھٹے دن کی طرح ہے جس (۱۶۰) الذي خُلق فيه ،آدم وإنّ میں آدم پیدا کیا گیا تھا جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يومًا عند ربّك كألف کہ ایک دن تیرے پروردگار کے نزدیک سنة مما تعدون۔ہزار سال کی طرح ہے تمہارے حساب سے۔اَلْبَابُ الْخَامِسُ يا أهل الدهاء والاتقاء من اے خدا ترس اور عقلمند ناظرین ! آگاہ الناظرين ! اعلموا أن زماننا هذا رہو کہ یہ زمانہ وہی آخری زمانہ ہے اور میں هو آخر الزمان وأنا من الآخرين۔آخرین میں سے ہوں۔اور ہمارا یہ دن الحاشية۔لايقال ان ساعة حاشیہ۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قیامت کی گھڑی مخفی القيامة مخفية فلايجوز ان يقال ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ کسی زمانہ کو کہا لزمان انه هو آخر الازمنة فانا جائے کہ وہ آخری زمانہ ہے۔پس ہم قیامت لانعين الساعة بل نقول انها غير کی تعیین نہیں کرتے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ معين في هذه الساعات المعينة۔ان معین گھڑیوں میں غیر معین ہے اور بلا شبہ ولاشك ان القرآن شبه الوف قرآن کریم نے دنیا کے ہزاروں سالوں کو الدنيا بايام الخلقة۔فيستنبط من ايام تخلیق سے تشبیہ دی ہے۔پس ہمارا ہر قول هذا كل ما قلنا كما لا يخفى على اس سے مستنبط ہوتا ہے۔جیسا کہ اہلِ دانش پر مخفی نہیں۔ذوى الفطنة۔منه