خطبة اِلہامِیّة — Page 150
خطبه الهاميه ارد و ترجمه (۱۵۸) المسيح و المسيح أقربه في مسیح قرآن میں اپنی موت کا اقرار کرتا القرآن، ألا يتدبرون قوله فَلَمَّا ہے کیا اس کے قول فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں غور تَوَفَّيْتَنِي، أم على القلوب أقفالها نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ گئے أم هم عمون؟ وإن القرآن أشار ہیں یا اندھے ہیں اور قرآن سورۃ عصر في أعداد سورة العصر إلى وقت کے اعداد میں قمری حساب سے اس وقت مضى من آدم إلى نبينا بحساب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آدم سے ہے القمر ، فعُدوا إن كنتم تشكون۔ہمارے نبی تک گزرا ہے پس اگر شک وإذا تقرر هذا فاعلموا أنّى تو گن لو۔اور جب یہ تحقیق ہو گیا تو جان لو خُلقت في الألف السادس فی کہ میں چھٹے ہزار کے آخر اوقات میں پیدا آخر أوقاته كما خُلق آدم فی کیا گیا ہوں جیسا کہ آدم چھٹے دن میں اس اليوم السادس في آخر ساعاته کی آخری ساعت میں پیدا کیا گیا پس فليس لمسيح من دونی موضع میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے قدم بعد زماني إن كنتم تفكرون زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں اگر (۱۵۹) ولا تظلمون فأنا صاحب الزمان فکر کرو اور ظلم اختیار نہ کرو۔پس میں لا زمان بعدی، فبای زمان صاحب زمان موعود ہوں اور میرے بعد تنزلون مسيحكم المفروض کوئی زمانہ نہیں اور اے جھوٹو ! وہ کون سا أيها الكاذبون؟ وقد اتفق على زمانہ ہو گا جس میں تم اپنے فرضی اور خیالی هذه العِدة التوراة والإنجيل مسیح کو اتارو گے اور اس وقت اور زمانہ پر والقرآن، فاسألوا أهل الكتاب توریت اور انجیل اور قرآن سب متفق ہیں۔إن كنتم ترتابون۔وقد مضی اگر شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔آخر الألف السادس، وما بقى ہزار ششم کا آخرگز ر گیا۔اور اس کے بعد صحیح وقت نزول المسيح بعده ، وإن کے نازل ہونے کے لئے کوئی وقت اور موقعہ