خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 146

خطبه الهاميه ۱۴۶ ارد و ترجمه أرَضِيتم بأن يكون نبيكم مدفونا کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تمہارے نبی في التراب في المدينة، وأما مدينہ میں زمین کے نیچے مدفون ہوں لیکن عيسى فهو حى إلى هذا الوقت؟ عیسی اس وقت تک زندہ ہو۔اے بے اتقوا الله أيها المجترء ون قد با کو ! خدا سے ڈرو۔اور یہ پہلا اجماع كان إجماع الصحابة على موت تھا جو تمام صحابہ کے اتفاق سے اسلام عيسى أول إجماع انعقد فی میں منعقد ہوا اور کوئی فرد بھی اس اجماع الإسلام باتفاق جميعهم، وما سے باہر نہ رہا۔اور یہ حضرت صدیق كان فرد خارجا منه كما أنتم رضى اللہ عنہ کا تمام مسلمانوں کی گردن ۱۵۳ تعلمون۔وهذا منة من الصديق پر احسان ہے کہ انہوں نے تمام انبیا کی ضي الله عنه على رقاب موت اور عیسی کی موت کو قرآن سے رضی المسلمين كلهم أنه أثبت بنص ثابت کیا۔کیا تم مشکور ہو؟ پھر اُن کی جگہ القرآن موت الأنبياء كلهـم وموت عيسى، فهل أنتم وہ لوگ بیٹھے جو قرآن کو چھوڑتے ہیں اور رحمن کے خلاف کرتے ہیں اور خدا شاکرون؟ ثم خلف من بعدهم خلف يتركون القرآن ويخالفون پر جھوٹ باندھتے ہیں اور خوب جانتے الرحمن وعلى الله يفترون۔وقد ہیں کہ قرآن مسیح کو وفات دیتا ہے اور علموا أن القرآن تَوفَّى المسيح، دوبارہ اس کو صاف طور پر بیان فر ما تا وكرر البيان الصريح، ومنعه من ہے اور آسمان پر چڑھنے سے اس کو الصعود إلى السماء ، وبشر روکتا ہے اور مسلمانوں کو خوشخبری دیتا المسلمين بأن خاتم الخلفاء ہے کہ خاتم الخلفاء اور اس اُمت کا مسیح ومسيح هذه الأمة ليس إلا من اس امت میں سے ہو گا اب اس کے بعد (۱۵۳) الأمة، فأتى مسيح بعدی کون سے مسیح کا انتظار کرتے ہیں اور