خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 145

خطبه الهاميه ۱۴۵ اردو ترجمہ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے مجھے تو فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ تیرے ہی مرنے کا ڈر تھا۔یعنی مجھے تو سارا يريد أن خوفي کله کان علیک یہی ڈر تھا کہ کہیں تو نہ مر جائے لیکن اب جبکہ تو ۱۵۱ فإذا مت فلا أبالى أن يموت ہی مر گیا تو اب مجھے کچھ پروا نہیں کہ موسیٰ موسى أو عيسى فانظروا إليهم مرے یا عیسی مرے۔اب غور کرو کہ وہ اپنے كيف أحبوا نبيهم وكيف كان نبی کو کس قدر دوست رکھتے تھے اور کس طرح محبت کے آداب اور نشان اُن سے ظاہر تصدر منهم آداب المحبة وآثارها أيهـا الـمـجـادلـون ہوتے تھے۔اور یہ بھی غور کرو کہ ان کی وانظروا كيف اقتضت غيرتهم غیرت نے ہر گز نہ چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ أنهم ما رضوا بحياة نبي بعد علیہ وسلم کی موت کے بعد کسی نبی کی حیات پر موت رسول الله فهدوا إلى راضی ہو جائیں پس خدا نے ان کو اسی طرح الصراط كما يُهدَى العاشقون۔سے حق کی راہ دکھلائی جس طرح سے عاشقوں و اجتمعت قلوبهم على مفهوم آية قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کو دکھلاتا ہے۔اور ان کے دلوں نے قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی آیت کے و آمنوا به و کانوا به يستبشرون • ثم أتيتم بعدهم۔۔ما قدرتم مفہوم پر اتفاق کر لیا۔اور اس پر ایمان نبيكم حق قدره وتقولون ما لائے اور اس پر خوش ہوئے۔پھر صحابہ کے تقولون أتـأمــركـم محبتكم بعد تمہاری باری آئی تم نے اپنے نبی کی وہ بنبيكم أن يبقى عیسی علی قدر نہیں کی جو قد ر کرنے کا حق تھا۔اور السماء حيا وقد مضى ألف کہتے ہو جو کچھ کہتے ہو۔کیا تمہاری محبت روا وقريب من ثلثه على موت رکھتی ہے کہ عیسی آسمان پر زندہ ہو اور ہمارے رسول الله؟ ساء ما تحكمون نبی چودہ سو برس سے وفات یافتہ ہوں۔۱۵۲