خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 128

خطبه الهاميه ۱۲۸ ارد و ترجمه وخاطبتموه بهذه الأسماء ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم نے اس کو وجرحتموه بسهام الإفتاء؟ کا فر کہا اور ان ناموں سے پکارا اور أتكذبون النبأ الذي فتوے لگانے کے تیروں سے اس کو زخمی أتممتموه بألسـنـكـم أيها کیا۔کیا تم اس پیشگوئی کو جسے تم نے خود الســالـقـون؟ ألا تأخذكم الحیاء اپنی زبانوں سے پورا کیا جھٹلاتے ہو۔أنكم تدعون ربكم في الفاتحة أن کیا تم کو شرم نہیں آتی کہ فاتحہ میں اپنے يدخلکم فی جماعتی ثم خدا سے چاہتے ہو کہ تم کو میری جماعت ۱۲۷ تعرضون؟ وكنتم تقولون لا میں داخل فرما دے پھر منہ پھیر تے ہو۔صلاة إلا بالفاتحة فلا تكونوا اور تم کہتے تھے کہ بغیر فاتحہ کوئی نماز أوّل كافر بها أيها الموحدون درست نہیں۔اب اے موحد و ! تم خود والعجب منكم كل العجب أنكم پہلے اس کا کفر مت کرو۔بڑا تقرء ون هذا الدعاء في السبع تعجب ہے کہ پانچ وقت اس دعا کو فاتحہ المثاني مع فهم المعانی فی میں پڑھتے ہو اور اس کے معنے بھی سمجھتے | ہو أوقاتكم الخمسة ثم تنسونه ہو پھر بھولتے ہو اور منہ پھیر لیتے وتعرضون۔و ما هذا إلا شقاوة اس بدبختی سے خدا کا غضب بھڑکتا ہے توجب غضب الرب لما هی کیونکہ یہ خدا کے حکم سے منہ پھیرنا ہے۔إعراض عما تؤمرون۔وما أسألكم میں اس چیز پر جو تمہارے پاس لایا ہوں۔على ما جئتكم به من أجر ولا کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ یہ کہتا أقول أن انبذوا مالا من أيديكم ہوں کہ مال اپنے ہاتھ سے زمین پر فـآخذه، بل أوتيكم ما لا فهل أنتم پھینکو اور میں اسے اٹھا لوں بلکہ میں خود ۱۳۸ تأخذون ؟ أيها الفقراء ما بقى فى تم کو مال دیتا ہوں کیا لیتے ہو؟ اے أيديكم شيء من الدنيا والآخرة، فقیر و ! دنیا اور آخرت میں سے تمہارے