خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 129

خطبه الهاميه ۱۲۹ ارد و ترجمه فلا تظلموا أنفسكم وأنتم تعلمون پاس کچھ نہیں رہا۔پس اپنی جان پر جان وإن كنتم في شك من أمرى بو جھ کر ظلم نہ کرو اور اگر میری نسبت تمہیں کچھ فامتحنوني كيف شئتم ولا شک ہے تو مجھے جس طرح چاہو آزما لو اور تنسوا سنن الله في قوم يُرسلون۔خدا کے اس قانون کو جو رسولوں کے حق میں واعلموا أنكم خرجتم على قدم جاری ہے مت بھلا ؤ۔اچھی طرح جان لو کہ بني إسرائيل، فلا تنسوا ما مَسَّهم تم نے بنی اسرائیل کے قدم پر قدم مارا ہے إن كنتم تعقلون فإن الله پس اگر عقلمند ہو تو اس عذاب اور سزا کومت قد غضب على اليهود مرتين ما بھلا ؤ جو ان کو پہنچی جیسا کہ جانتے ہو کہ خدا غضب كمثلها من قبل ولا من تعالى دو دفعہ یہودیوں پر ایسا غضبناک ہوا بعد، وسماهم المغضوب عليهم کہ کبھی آگے پیچھے ویسا غضبناک نہیں ہوا اور ولعنهم مرة على لسان داؤد و ان کا مَغْضُوبِ عَلَيْهِم نام رکھا اور ایک ثانية على لسان عیسی، فتلک دفعہ داؤد کی زبانی اور دوسری دفعہ عیسی کی الأشد انحصرت زبان سے ان پر لعنت کی۔پس وہ سخت ۱۲۹ کے في المرتين كما لا يخفى على غضب دو دفعہ میں منحصر ہوا جیسا کہ تدبر الذين يتدبرون، وقال الله کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔خدا تعالیٰ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ في فرماتا ہے کہ ہم نے کتاب میں بنی الكتبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ اسرائیل سے کہا کہ تم دو دفعہ زمین میں مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْدُنَ عُلُوًّا كَبِيرًا لے فساد کرو گے اور حد سے نکل جاؤ گے۔کیا فهل أنتم تتذكرون؟ وكان تمہیں یہ یاد ہے؟ اور وہ دوسروں کا فساد المفسدة الآخرة الموجبة لغضب جو خدا کے غضب کا باعث ہو ا مسیح کو کافر الربّ تكفير المسيح وإرادة کہنا اور اس کو سولی دینے کا ارادہ تھا جیسا صلبه كما أُشير في اللعنتین کہ ان دو مذکورہ لعنتوں میں اشارہ ہے۔بنی اسرائیل: ۴