خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 149

خطبه الهاميه ۱۴۹ ارد و ترجمه أبصارهم، وطمس وجوههم، مہر لگائی اور ان کی آنکھ کو اندھا کیا۔اور ان فهم لا يؤانسون۔وإنهم ينتظرون كے مونہوں کو اوندھا کر دیا پس وہ انس نہیں المسيح من السماء ، ويفرحون پکڑتے۔اور وہ آسمان سے ایک مسیح کے بکلمات مدسوسة أُدخلت فی آنے کے منتظر ہیں۔اور ان باتوں پر خوش الإسلام بسبب النصارى عندما ہوتے اور ناز کرتے ہیں جو باتیں نصاری كانوا يسلمون وكيف ينزل نے اسلام لانے کے بعد اسلام میں داخل الذي أُنزل عليه الإنجيل وقد کیں۔اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ مسیح آئے جس قال القرآن مِنكُمْ ، فهل پر انجیل اتری تھی حالانکہ قرآن مِنكُمُ يهلك إلا الكاذبون أنُزِّلَ فرماتا ہے۔پس جھوٹا ہی ہلاک ہوتا ہے۔کیا علیهم قرآن آخر أو شابهوا ان پر دوسرا قرآن اترا ہے۔یا یہودیوں کی یا اليهود فحرفوا كما كانوا طرح ہو کر تحریف کا پیشہ اختیار کیا ہے۔اور يحرفون؟ وإن القرآن قد تَوفَّی ثابت ہے کہ قرآن مسیح کو وفات دیتا ہے اور الحاشية - سمعت ان بعض ترجمہ۔میں نے سنا ہے کہ بعض جاہل یہ کہتے ہیں الجهال يقولون ان المهدی من بنی کہ مہدی بنی فاطمہ میں سے ہو گا۔پس یہ شخص فاطمة۔فكيف يقول هذا الرجل کیسے کہتا ہے کہ میں ہی مہدی معہود ہوں انى انا المهدى المعهود و انه ليس حالانکه یه شخص ان ( بنی فاطمہ ) میں سے نہیں۔تو منهم۔فالجواب ان الله يعلم حقيقة اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقت احوال اور نسب الاحوال و حقيقة النسب والأل۔و اور آل کی حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے اور اس مع ذالك اني انا المهدی الذی کے باوجود میں ہی وہ مہدی ہوں جو مسیح موعود هو المسيح المنتظر الموعود وما المنتظر ہے اور اس کے بارہ میں یہ نہیں آیا کہ جاء فيه انه من بنى الفاطمة۔فاتقوا وہ بنی فاطمہ میں سے ہوگا پس اللہ اور قیامت کی گھڑی سے ڈرو۔الله و الساعة الحاطمة۔منه۔