خطبة اِلہامِیّة — Page 148
خطبه الهاميه ۱۴۸ ارد و ترجمه حزب من الناس و هم کمثلها میں سے ایک گروہ اس جیسا نہ ہو گیا ہو اور افعال میں يعملون وکذالک فتَقَتِ اس کے مشابہ نہ ہو۔اور ایسا ہی زمین بھی ایسی پھٹی الأرض حق فتقها، ألم يأن ان جیسے پھٹنے کا حق تھا۔آیا اب تک وقت نہیں آیا کہ ان يخلق الله آدم بعدها وينفخ فيه حیوانات کے بعد خدا آدم کو پیدا کرے اور اپنی روح روحه، ولا تبديل لسُنّة الله أيها اس میں پھونکے اے عقلمند و! خوب جان لو کہ اللہ کی (۱۵۶) العاقلون۔وإذا قيل لهم سارعوا سنت ہرگز نہیں بدلتی اور جس وقت ان سے کہا جائے إلى خليفة الله واتبعوا ما کہ بہت جلد خلیفۃ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ كشف الله علیه لعلکم اور اس کے الہاموں کی پیروی کرو تا کہ تم پر رحم کیا تُرحمون، رأيتهم تحمر أعينهم جائے ان کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو جاتی ہیں اور من الغيظ، وقالوا ما كان لنا أن کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایک جاہل کی پیروی نتبع جاهلا ونحن أعلم منه، فعليه| کریں حالانکہ ہم اس سے زیادہ عالم ہیں بلکہ چاہیے أن يبايعنا، أنبايع الذي لا يعلم کہ وہ ہماری بیعت کرے۔کیا ہم ایسے شخص کی شيئا وإنا لعالمون فليصبروا بیعت کریں کہ اس کو علم سے کچھ حصہ نہیں اور ہم عالم حتى يرجعوا إلى ربهم ويطلعوا ہیں۔پس چاہیے کہ صبر کریں یہاں تک کہ اپنے على صورهم، وذرهم وما | پروردگار کے پاس جائیں اور اپنی صورتوں سے يكيدون۔وقد وسَم الله على واقف ہوں اور ان کو اور ان کی بداندیشیوں کو جانے خراطيمهم، وأظهر حقيقة دے۔اور ظاہر ہو گیا ہے کہ خدا نے ان کی ناکوں پر علومهم، ثم لا يتندّمون۔وإذا داغ دیا ہے اور ان کے علم کی حقیقت کو طشت از بام کر دعوا إلى الـحـق تـعـرف فی دیا ہے۔اور باوجود اس سب کے شرمندہ اور پشیمان وجوههم المنكر، ويمرون علینا نہیں ہوتے اور جس وقت ان کو حق کی طرف بلایا (۱۵۷) وهم يسبون۔أولئك الذين جائے تیوری چڑھاتے ہیں اور گالیاں دیتے گزر طبع الله على قلوبهم، وأعمى جاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل پر خدا نے