دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 551
551 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مرتب ہوا تو وہ یہی تھا کہ جماعت پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرنے لگ گئی لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا جا رہا تھا اور ایک منفی فیصلے نے پاکستان کے لیے نہ ختم ہونے والی مصیبتوں کے دروازے کھول دیئے۔بہر حال 17 ستمبر کا دن آیا۔دوپہر کو ساڑھے چار بجے اسمبلی کی کارروائی شروع کی گئی۔تلاوت کے بعد سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا (الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔(اول) دفعہ 106(3) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔(دوم) دفعہ 106 میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے۔مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لیے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔(ب) که مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 الف میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے تشریح : کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ 260 کی شق نمبر 3 کی تشریحات کے مطابق حضرت محمد کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ھذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔(ج) کہ متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ 1973ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد 1974ء میں قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔(د) کہ پاکستان کے تمام شہریوں کے خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں کے جان، مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے۔وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قرارداد کے الفاظ پڑھنے شروع کیے تھے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایوان میں داخل ہوئے اور اس وقت ایوان کے ممبران نے ڈیسک بجا کر وزیر ا عظ کا والہانہ