دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 552 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 552

552 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری متفقہ طور پر استقبال کیا لیکن اس موقع پر احمد رضا قصوری صاحب نے مداخلت کی اور کہا کہ اس آئینی ترمیم میں یہ الفاظ شامل کئے جائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کار خواہ وہ کسی نام سے جانے جاتے ہوں قانون اور آئین کے حوالے سے غیر مسلم ہیں لیکن وزیر قانون نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ کمیٹی میں اس ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور اب جب اس ترمیم کی شقوں پر رائے شماری کی گئی تو انہیں بھی ایوان میں منظور کیا گیا۔احمد رضا قصوری صاحب اپنی ترمیم ایوان کے سامنے پیش کرنے پر مصر تھے۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی اسے خلاف ضابطہ قرار دیا۔سپیکر نے ایوان سے رائے لی کہ کیا احمد رضا قصوری صاحب کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اس ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کر سکیں تو ہر طرف نہیں نہیں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے۔احمد رضا قصوری صاحب نے کہا کہ وہ واک آؤٹ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں (یعنی احمدیوں کو) غیر مسلم نہیں قرار دیا جا رہا۔رائے شماری سے پہلے وزیر اعظم نے تقریر کرتے ہوئے اسے متفقہ قومی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ نوے سالہ پرانا مسئلہ تھا جس کا مستقل حل تلاش کر لیا گیا ہے اور کہا کہ میں اس سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا۔پھر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے اور اگر کوئی ایسا فیصلہ کیا جاتا جو مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہوتا تو اس سے پاکستان کی بنیاد پر ضرب پڑتی۔پھر انہوں نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اب یہ باب ختم ہو جائے گا۔کل شاید ہمیں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے لیکن اب تک پاکستان کو پیش آنے والے مسائل میں یہ سب سے زیادہ سنگین مسئلہ تھا۔لیکن ایک بات بھٹو صاحب بھی محسوس کر رہے تھے۔قومی اسمبلی نے اتنا بڑا کارنامہ سرنجام دیا تھا لیکن اس کی کارروائی خفیہ رکھی گئی تھی۔آخر کیوں؟ سب کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں کیا ہوا تھا۔بھٹو صاحب نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی یہ کارروائی خفیہ ہوئی ہے۔اگر یہ کارروائی خفیہ نہ ہوتی تو ممبران اس یکسوئی سے اظہار خیال نہ کر سکتے۔لیکن کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہتی۔یہ کارروائی بھی ایک روز منظر عام پر آئے گی لیکن ابھی کچھ اضافی وقت لگے گا جس کے بعد یہ کارروائی منظر عام پر لائی جائے گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم اس ریکارڈ کو دفن کر دیں گے۔ہر گز نہیں یہ خیال ایک غیر حقیقی مخیال ہو گا۔اگر ہم بھٹو صاحب کی اس بات کا