دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 550
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 550 بہر حال فیصلے کے اعلان سے ایک روز پہلے اخبارات میں یہ فخریہ خبریں شائع ہوئی شروع ہو گئیں کہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق قادیانی مسئلہ کا قابل قبول حل تلاش کر لیا گیا ہے۔(13) وو 6 ستمبر کو جمعہ کا روز تھا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے خطبہ میں فرمایا:۔۔۔جو شخص یہ کہے کہ میں دنیا کی طاقتوں سے مرعوب ہو گیا۔دوسرے لفظوں میں وہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ میرا خدا کے ساتھ واسطہ کوئی نہیں۔۔۔ورنہ آدم سے لے کر معرفت حاصل کرنے والوں نے خدا تعالیٰ کے پیار کے سمندر اپنے دلوں اور سینوں میں موجزن کئے اور سوائے خدا تعالیٰ کی خشیت کے اور کوئی خوف اور خشیت تھی ہی نہیں ان کے دلوں میں۔یہ جو خشیت اللہ ہے یہ غیر اللہ کے خوف کو مٹا دیتی ہے۔اللہ سے یہ ڈر کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے وہ ہر دوسرے کے خوف کو دل سے نکال دیتا ہے۔۔۔شاید سات آٹھ سال گزر گئے غالباً 1966-1967ء کی بات ہے ایک موقع پر مجھے حاکم وقت سے ملنا تھا تو مجھے بڑے زور سے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرُ آهِ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ اور یہ میرے لئے عنوان تھا۔ہدایت تھی کہ اس رنگ میں جا کر باتیں کرنی ہیں۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل کمزوری سے بچانے کے لیے وقت سے پہلے ہی راہ بتا دی۔“ اس خطبہ کے آخر میں حضور نے فرمایا:۔ہے (خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ 625،624) پس یہ دنیا جس میں دنیا کے لوگ بستے ہیں ایک اور دنیا ہے اور وہ دنیا جس میں احمدی بستے ہیں وہ میں ایک اور ہی دنیا ہے اور احمدیوں کا فرض ہے کہ اپنے نفسانی جذبات کو بالکل فنا کر دیں اور کسی صورت اور کسی حال میں غصہ اور طیش میں نہ آئیں اور نفس بے قابو ہو کر وہ جوش نہ دکھلائیں جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے بلکہ تواضع اور انکسار کی انتہاء کو پہنچ جائیں اور اپنی پیشانیاں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حضور زمین پر رکھے رہیں۔“ (14) عام خیال تھا کہ 17 ستمبر کو قومی اسمبلی احمدیوں کے متعلق فیصلہ کرے گی۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی تمام کوششوں اور مخالفت کے با وجود اس فیصلہ کا یا اس جیسے دیگر فیصلوں کا جماعت پر اگر کوئی نتیجہ